BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 June, 2007, 00:42 GMT 05:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میڈیا قومی مفاد کا خیال رکھے: مشرف

صدر مشرف
’گزشتہ تین ماہ کے دوران عدالتی بحران میں میڈیا نے انتہائی منفی کردار ادا کیا ہے‘
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ ملک کی پہلی دفاعی لائن ہیں اور وہ میڈیا کی خود مختاری کا تحفظ کریں گے، لیکن اس شعبے کو بھی ملکی مفادات کا خیال رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قومی مفادات کے بارے میں منفی باتیں کی جاتی ہیں، تاہم بعض معاملات میں میڈیا کا کردار مثبت بھی رہا ہے۔

صدر مشرف جمعہ کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے تحت منعقد ہونے والی میڈیا ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کی مخالفت کے باوجود انہوں نے سال دو ہزار دو میں میڈیا کو آزادی دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

میڈیا کے مثبت کردار کے حوالے سے انہوں نے شمالی علاقوں و کشمیر میں آنے والے زلزلے، حقوق نسواں بل اور لال مسجد کے معاملات کا ذکر کیا جبکہ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران عدالتی بحران میں میڈیا نے انتہائی منفی کردار ادا کیا اور اس کو نسلی و لسانی رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔

ملٹری انکارپوریٹڈ
 آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، نیشنل لاجسٹک سیل اور فرنٹئر ورکس آرگنائزیشن میں ساٹھ فیصد سویلین اور چالیس فیصد ریٹائرڈ فوجی افسران کام کرتے ہیں
صدر مشرف

وہ غالباً جبری رخصت پر بھیجے گئے چیف جسٹس آف پاکستان کے دورہِ کراچی کے دوران ہونے والے تشدد کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ’صحافیوں کو غیر جانبدارنہ اور منصفانہ رپورٹنگ کرنی چاہیے‘۔

صدر مشرف نے نام لیے بغیر محقق عائشہ صدیقہ کی پاکستانی فوج کے کاروباری مفادات کے متعلق کتاب ’ملڑی انکارپوریٹڈ: اِن سائیڈ پاکستاننز ملڑی اکانومی‘ پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان کو ایسی کتابوں سے دکھ پہنچتا ہے۔

جنرل مشرف نے کہا کہ اس کتاب میں دیے گئے تاثر کے برعکس آرمی ویلفیئر ٹرسٹ، نیشنل لاجسٹک سیل اور فرنٹئر ورکس آرگنائزیشن میں ساٹھ فیصد سویلین اور چالیس فیصد ریٹائرڈ فوجی افسران کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں نے گزشتہ سال قومی خزانے میں چھتیس ارب روپے جمع کرائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج کے اقتصادی مفادات کے بارے میں پروپیگنڈا انتہائی تکلیف دہ ہے ’لیکن ہمیں ماضی کی تلخیوں کو بھلا دینا چاہیے اور نئی شروعات کرنی چاہیں‘۔

انتخابی فہرستوں پر اعتراض
 ایسی سیاسی جماعتیں بائیکاٹ کرسکتی ہیں جن کو الیکشن لڑنا ہی نہیں ہے
صدر مشرف

لال مسجد کے مسئلے پر صدر مشرف نے کہا کہ خدا کے سوا تمام ذرائع سے لال مسجد کی انتظامیہ سے مذاکرات کیے گئے ہیں اور یہاں تک کہ امام کعبہ کو بھی ان سے بات چیت کے لیے بلایا گیا لیکن وہ (لال مسجد والے) سمجھ نہیں رہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی فہرستوں پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں اور یہ دھمکی دی جا رہی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کا بائیکاٹ کرینگے۔ ان کا کہنا تھا ’ایسی سیاسی جماعتیں بائیکاٹ کرسکتی ہیں جن کو الیکشن لڑنا ہی نہیں ہے‘۔

میڈیامیڈیا شکنجے میں
کیا حکومت دباؤ کی تاب نہیں لا پا رہی ہے؟
جرنیلوں کی حمایت
کورکمانڈروں کا جنرل مشرف پر اعتماد کا اظہار
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ’ملٹری انکارپوریٹڈ‘
عائشہ صدیقہ کی فوج پر کتاب ریلیز ہوگئی
بےنظیر بھٹو کی سوانح عمری’دخترِ مشرق‘
’مشرف کے ایم کیو ایم سے رابطوں کا شک تھا‘
’یہ انوکھا واقعہ ہے‘
’چیف جسٹس سے ایسا سلوک، مثال نہیں ملتی‘
رقوم کا ذکرحذف
القائدہ گرفتاریوں کے بدلے رقوم ملنے کا ذکر حذف
مشرفمشرف کی کتاب
’تنازعات کی پوٹلی یا جنرل مشرف کا ہاٹ کیک‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد