سونے کی سمگلنگ، تحقیقات جلد مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ کونگو میں تعینات کیے گئے امن فوجیوں کی طرف سے مبینہ طور پر کی گئی سونے اور اسلحہ کی سمگلنگ کے بارے میں تحقیقات مکمل ہونے کے قریب ہیں اور امید ہے کہ رپورٹ جلد سامنے آ جائے گی۔ گزشتہ ماہ بی بی سی نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستان فوج کے چند افسران کونگو میں سونے اور اسلحے کی سمگلنگ میں ملوث رہے ہیں۔ رپورٹ کے چھپنے کے بعد پاکستان فوج کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ جب تک پاکستان کا نام نہیں لیا جاتا وہ اس مسئلے پر کچھ نہیں کہیں گے۔ اقوامِ متحدہ میں امن فوج کے آپریشنز کے میڈیا کے امور سے متعلق اہلکار نِک برنبرگنے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ایک خودمختار ادارے آفس آف انٹرنل اورسائٹ سروسز (او آئی او ایس) کی تحقیقات مکمل ہونے کو ہیں اور ’جہاں تک ہماری اطلاع ہے اس کی رپورٹ جلد ہی بن جائے گی۔‘ اس سے علاوہ کونگو سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان ییوز سوروکوبی نے بھی کہا ہے کہ ’رپورٹ مکمل ہونے کو ہے اور ہم نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
اس سلسلے میں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کا کہنا تھا ’ کہ وہ اس وقت تک کچھ بھی نہیں کہیں گے جب تک اقوامِ متحدہ براہِ راست پاکستان کا نام نہیں لیتا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک پروفیشنل آرمی ہیں اور ہم تحقیقات بھی پروفیشنلی کرتے ہیں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے ان افسران سے پوچھ گچھ کی ہے جن کے متعلق بی بی سی کی پہلے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا تو تب بھی ان کا جواب وہی تھا یعنی جب تک اقوامِ متحدہ نام نہیں لیتا اس وقت تک کوئی انکوائری کرنا ٹھیک نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کونگو میں رابطے کر رہے ہیں مگر ابھی تک کچھ سامنے نہیں آیا ہے۔ گزشتہ ماہ کے اواخر میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی ترجمان مس مشیل مونٹاس نے نیو یارک میں ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کا ادارہ آفس آف انٹرنل اورسائٹ سروسز (او آئی او ایس) اسلحہ اور سونے کی سمگلنگ کے الزامات کی تحقیقات کر رہا ہے اور یہ ’تحقیقات اگلی سطح پر ہیں اور امید ہے کہ تین ہفتوں میں مکمل ہو جائیں گی‘۔ مس مونٹاس نے کہا کہ اگر یہ پتہ چلا کہ کہیں غلط کام ہوا ہے تو سیکریٹری جنرل اس کے ذمہ دار افراد کو قصور وار ٹھہرائیں گے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک سے بھی ایسا ہی کرنے کو کہا۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے ایک رکن نے، جو کہ امن فوج کی سمگلنگ کے بارے میں تحقیقات سے منسلک رہے ہیں، بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان تحقیقات کو دبانے کا منصوبہ ہے کیونکہ اقوامِ متحدہ پاکستان کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کو سب سے زیادہ فوجی مہیا کرتا ہے۔ یہ سب کس طرح شروع ہوا اس سے قبل 2006 میں جمہوریہ کونگو یعنی ڈی آر سی میں اقوامِ متحدہ کے ادارے مون یوک (MONUC) کی ابتدائی تحقیقات کے بعد یہ الزامات منظرِ عام پر آئے تھے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی امن فوج (PAKBATT) پر سونے کی سمگلنگ کے الزامات سن دو ہزار چار سے ہی لگنے شروع ہو گئے تھے لیکن سن دو ہزار پانچ میں یہ اس وقت اور سنگین ہو گئے جب یہ الزام لگا کہ فوج کے چند افسر ان ملیشیا لیڈروں کے ساتھ اسلحے کی بھی تجارت کر رہے ہیں جن کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے انہیں بھیجا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی تحقیقات کے دوران ایک عینی شاہد کے مطابق پاکبیٹ کے ایک میجر علی نے ایک ملیشیا رہنما کنگفو کو، جو اب جیل میں ہیں، کہا تھا کہ ’اس اسلحے کا کیا ہوا جو ہم نے تمہیں دیا تھا، اس اسلحے کا کیا ہوا جو مونیوک نے تمہیں دیا تھا۔‘ عینی شاہد کے مطابق میجر علی نے کہا کہ مونیوک نے تمہیں اسلحہ سرحد کنٹرول کرنے کے لیے دیا ہے، تم اس جگہ ہماری سکیورٹی کے لیے رہو۔ عینی شاہد نے کہا کہ جب وہ لوگ جا رہے تھے تو میجر علی نے یہ بھی کہا کہ ’وہ تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں، لیکن ان کے آنے سے پہلے میں تمہیں خبردار کر دوں گا۔‘ بی بی سی کی اقوامِ متحدہ میں شامل پاکستانی فوج کے متعلق رپورٹ آنے کے بعد کونگو حکومت کی قید میں موجود ملیشیا کے رہنماؤں نے اخبارات اور بی بی سی کو خط لکھے ہیں جن میں انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے پاکستان فوج کے افسران کے ساتھ تجارتی تعلقات تھے۔ اپنے خط میں ایف این آئی کے رہنما ڈراٹس ڈریگن اور میٹیسو نیانگا کنگفو لکھتے ہیں: ’ڈی آر کانگو کے اورینٹل صوبے کے اتوری ضلع میں مونگوالو شہر میں امن فوج کے دستوں کی سونے اور اسلحہ کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے سکینڈل کے بارے میں وضاحت: ’ہم، میسرز ڈراٹس ڈریگن اور میٹیسو نیانگا کنگفو ہیں، ہمارا تعلق ایف این آئی ملیشیا سے ہے۔ ہم نے مونگوالو شہر میں سونے اور اسلحہ کی سمگلنگ میں امن فوج کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کے سکینڈل کے بارے میں بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج کی جانچ کی ہے۔ ’اقوام متحدہ کے امن فوج کے دستوں سے قریبی تعلق ہونے کی بناء پر ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم قومی اور بین الاقوامی رائے عامہ کے سامنے امن فوج کے ساتھ اپنے تعلق کو واضح کریں۔
1۔ نیلی ٹوپی پہنے پاکستانی جو اقوام متحدہ کی امن فوج میں کام کرتے ہیں، مختلف قسم کی چیزوں جیسے ائر کنڈیشنز، موبائل فونز کی تجارت میں ملوث ہیں اور ہم اس سلسلے میں ان کے اور خریداروں کے درمیان بیچ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کبھی کبھار، ہم نے خود بھی چیزیں خریدیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اکتوبر 2005 میں جب ہمیں گرفتار کیا گیا تو ہمارے پاس سے کیمرہ سے مزین دو نوکیا وی آئی پی موبائل فون برآمد ہوئے تھے جو ہم نے پاکستانیوں سے خریدے تھے۔ 2۔ جہاں تک سونے کا تعلق ہے تو ہم نے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کو جس کی قیادت مونگوالو کمپنی کے کمانڈنٹ میجر علی کر رہے تھے سونا فراہم کیا۔ 3۔ جہاں تک اسلحہ کے بدلے سونے کی تجارت کا تعلق ہے تو یہ بات انتہائی ایمانداری کے ساتھ سمجھی جانی چاہیے کہ امن فوج کے دستوں نے ہمیں مونگوالو شہر پر قبضے کے لیے ہتھیار اور بارود فراہم کیے۔ ’یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ امن فوج کے دستوں کے ساتھ ہماری اس قسم کی ڈیلنگ ڈی آر کانگو کے آئین کے خلاف تھی۔ مارچ 2005 کو ہمیں نزی ٹرنسٹ سینٹر بھیج دیا گیا۔ مساسی ڈریگون کونگو میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے چند اہلکاروں کے متعلق شکایات تو ابتداء میں ہی آنا شروع ہو گئی تھیں لیکن سن دو ہزار پانچ میں صورتِ حال مزید بگڑ گئی اور کونگو میں موجود اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں اور عام لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ پاکستان فوج کے ملیشیا کے ساتھ تعلقات ہیں اور وہ سونے کی تجارت میں ملوث ہیں۔
سن دو ہزار چھ میں اقوامِ متحدہ کے ادارے آفس آف انٹرنل اورسائٹ سروسز (او آئی او ایس) نے تحقیقات شروع کیں اور گواہوں سے انٹرویو کرنے شروع کر دیے۔ تحقیقات کے دوران کونگو کے ایک فوجی اہلکار سے بھی انٹرویو کیا گیا جو پاکستانی فوج یا پاکبیٹ کے ساتھ کام کرتا رہا تھا۔ اس نے الزام لگایا کہ اس وقت نزی (کونگو کا ایک علاقہ جہاں سونے کی کانیں ہیں) میں پاکستانی فوج کے کمپنی کمانڈر میجر ظنفر کی سونے کی تجارت میں سب سے زیادہ دلچسپی تھی۔ فوجی اہلکار کے مطابق کیونکہ میجر ظنفر کو سواہیلی نہیں آتی تھی اس لیے ان کو ہمیشہ کسی مترجم کی ضرورت ہوتی تھی۔ اس لیے ملیشیا کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ان کی ساری باتیں کسی نہ کسی کو ضرور معلوم ہو جاتی تھیں۔ فوجی اہلکار نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2005 میں ملیشیا کے ایک رہنما بوچو نے نے میجر ظنفر کو ایک کلوگرام سونا دے کر ان سے کمپیوٹر اور پرنٹر لیا۔ یہاں یہ بات بتانا قابلِ ذکر ہے کہ کونگو کے ان علاقوں میں ایک کمپیوٹر اور موبائل فون سونے سے زیادہ قیمتی تصور کیا جاتا ہے۔ فوجی اہلکار نے یہ بھی الزام لگایا کہ پاکستانی میجر نے ملیشیا سے اسلحہ ضبط کرنے کے بعد ان کو واپس بھی دے دیا کرتے تھے۔ 10 اگست 2006 کو اقوامِ متحدہ نے بالآخر پاکستان فوج سے متعلق شکایات کی تحقیقات کرنے کے لیے ایک ٹیم بونیا کے شہر بھیجی جو 14 اگست کو مونگوالو پہنچی جس کی کمان پاکبیٹ کے ہاتھ میں تھی اور اب تک ہے۔ تحقیقات سے متعلق بی بی سی کے ہاتھ لگنے والی انویسٹیگیشن ڈویژن کے ڈائریکٹر کو بھیجی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں صاف لکھا گیا ہے کہ پاکبیٹ کے عدم تعاون اور موربیٹ (موروکو بیٹالین) اور یو ان ایم پی کی پاکستانیوں کے ہاتھوں حراست کی وجہ سے مشن کو وہ بیس چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ پاکستانی فوج کے چند افسران پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے ایک غیر ملکی تاجر کو اقوامِ متحدہ کے مہمان کے طور پر بلایا اور اس وہ ان کا پاکبیٹ کا مہمان رہا۔ بی بی سی کی طرف سے اس سلسلے میں شائع کی جانے والی رپورٹ کی ابھی تک کوئی واضح تردید نہیں ہوئی ہے اور پاکستانی فوج کے ترجمان نے صرف اتنا کہا ہے کہ جب تک پاکستان کا نام نہیں لیا جاتا وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہیں گے۔ | اسی بارے میں پاکستانی امن فوج کی ’سمگلنگ‘23 May, 2007 | آس پاس ’حقائق توڑ مروڑ کر پیش کیےگئے‘25 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||