پاکستانی امن فوج کی ’سمگلنگ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ کانگو میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل پاکستانی فوجی سونے کی تجارت اور کانگو کے ان ملیشیا گروپوں کو ہتھیاروں کی فروخت میں ملوث رہے جنہیں غیر مسلح کرنے کے لیے انہیں کانگو بھیجا گیا تھا۔ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شامل پاکستانی فوجیوں کے سونے کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کی متعلقہ اداروں کے ذریعے مکمل تفتیش کرائی جائے گی۔ بی بی سی کے مارٹن پلاٹ کے مطابق تجارت کا یہ سلسلہ سنہ 2005 میں جاری رہا اور جب سنہ 2006 میں اقوامِ متحدہ کی ایک ٹیم اس حوالے سے ثبوت اکھٹے کرنے کے لیے کانگو گئی تو اس کے کام میں نہ صرف رکاوٹیں ڈالی گئیں بلکہ انہیں دھمکایا بھی گیا۔
اس رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے دستے میں شامل کچھ پاکستانی افسر ملیشیا گروپوں کو سونے کے عوض ہتھیاروں کی فروخت میں ملوث تھے۔ پاکستان نے ان الزامات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ کانگو میں اقوامِ متحدہ کے نمائندے ولیم سووِنگ کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے تو انضباطی کارروائی ہو چکی ہوتی۔ اقوامِ متحدہ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو خود اقوامِ متحدہ نے’ سیاسی تنازعہ سے پچنے کے لیے‘ دبا دیا کیونکہ اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا سب سے بڑا حصہ پاکستانی فوجیوں پر ہی مشتمل ہے۔ سونے کی تجارت کے واقعات جمہوریہ کانگو کے شمال مشرقی علاقے مونگوالو میں پیش آئے۔ پاکستانی فوج کو اس علاقے میں لنڈو اور ہیما نامی نسلی گروہوں کے درمیان شدید لڑائی کے بعد بحالی امن کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ پاکستانی فوج کی تعیناتی کا مقامی افراد نے خیر مقدم کیا تھا لیکن کان کنوں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ لیکی لکامبو کے مطابق علاقے میں موجود سونے کی کانوں کی چمک کچھ لوگوں کو رجھانے کے لیے کافی تھی۔ ان کا کہنا تھا’ میں نے خود اپنی آنکھوں سے اقوامِ متحدہ کے ایک پاکستانی فوجی کو دکان میں سونے کی تجارت کرنے والوں سے سونا خریدتے دیکھا ہے‘۔ ایک مقامی بزنس مین ایوارستا انجاسوبو کے مطابق وہ پاکستانی فوج اور کنگ فو اور ڈریگن نامی دو ملیشیا لیڈروں کے درمیان ہونے والی ڈیل کے بارے میں جانتے ہیں۔’وہ دوست بن چکے تھے۔ میں انہیں اچھی طرح جانتا تھا۔ یہ سونا ہی تھا جو ان کی دوستی کی بنیاد بنا۔ چنانچہ کانوں سے نکلنے والاسونا سیدھا پاکستانیوں کے پاس جاتا تھا۔ ان لوگوں کی ملاقاتیں مونگوالو میں اقوامِ متحدہ کے کیمپ میں واقع ایک مکان میں ہوتی تھیں‘۔ سونے کی اس تجارت میں بعد ازاں کانگو کی فوج اور پھر کینیا کے بھارتی تاجر بھی ملوث ہو گئے تھے۔ مونگوالو کے ہوائی اڈے کے انچارج رچرڈ نڈلو کے مطابق انہیں اس تجارت کا شک سنہ 2005 میں اس وقت ہوا جب ایک بھارتی تاجر وہاں آیا اور پاکستانی امن فوج کے کیمپ میں رہا۔ اس غیر قانونی تجارت کی اطلاع پر ہی جب اتوری کی ضلعی کمشنر پیٹرونیل وویکا نے مونگوالو سے آنے والی ایک پرواز پر موجود سامان کی تلاشی لینی چاہی تو کانگو کی فوج کے افسران نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔
پیٹرونیل کے مطابق’ جب میں نے جہاز میں موجود سامان کی تلاشی لینی چاہی تو پائلٹ نے مجھے جہاز میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ یہ ایک بڑا سکینڈل تھا‘۔ انہوں نے کہا’میں جانتی تھی کہ سامان میں سونا تھا کیونکہ جب بھی بھارتی مونگوالو جاتے تھے تو سونے کی قیمتیں بڑھ جاتی تھیں‘۔ اقوامِ متحدہ کو کانگو کی فوج کے ایک افسر کے شہادتی بیان کے مطابق اس افسر نے میجر زنفر نامی افسر کی زیرِ قیادت پاکستانی بٹالین کے غلط کاموں پر افسوس کا اظہار کیا۔ کانگو کے فوجی افسر کے مطابق ملیشیا کے لوگ رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈالتے تھے اور وہی ہتھیار انہیں واپس پہنچا دیے جاتے تھے۔’وہی ملیشیا جو ایک دن قبل ہتھیار پھینکتی تھی اگلے دن پھر سے مسلح ہو جاتی تھی‘۔ | اسی بارے میں امن فوج پر جنسی زیادتی کے الزامات30 November, 2006 | آس پاس امن افواج کی جنسی زیادتیاں08 January, 2005 | آس پاس کانگو امن مشن، بھارتی فوجی ہلاک27 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||