’الزامات کی تفتیش کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ کانگو میں اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شامل پاکستانی فوجیوں کے سونے کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات کی متعلقہ اداروں کے ذریعے مکمل تفتیش کرائی جائے گی۔ بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں پاکستانی فوجیوں پر کانگو میں تعیناتی کے دوران سونے کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزامات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کے دفترِخارجہ نے کہا ہے ان الزامات کے بارے میں انہیں گزشتہ روز ہی آگاہ کیا گیا ہے۔ دفترِخارجہ نے کہا کہ نیویارک میں قائم اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کو اقوام متحدہ کے امن مشن کی طرف سے منگل کو اس بارے میں مطلع کیا گیا تھا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن مشن نے بتایا کہ بی بی سی نے پاکستانی فوجیوں پر لگائے جانے والے ان الزامات کے بارے میں ان کا موقف جانے کے لیے رابطہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے امن مشن نے مزید کہا تھا کہ ان الزامات کی مکمل تفتیش کی جارہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے دنیا کے مختلف ملکوں میں جاری اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں میں سب سے زیادہ فوجی فراہم کیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں اور امن کے استحکام میں پاکستان فوجیوں کا اہم حصہ ہے۔ | اسی بارے میں امن فوج پر جنسی زیادتی کے الزامات30 November, 2006 | آس پاس امن افواج کی جنسی زیادتیاں08 January, 2005 | آس پاس کانگو امن مشن، بھارتی فوجی ہلاک27 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||