BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 November, 2006, 11:51 GMT 16:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن فوج پر جنسی زیادتی کے الزامات
لاہبیریا کی نوعمر لڑکی کا دعویٰ کہ وہ زیادتی کے باعث حاملہ ہو گئی تھی
بی بی سی کی ایک تحقیق کے مطابق ہیٹی اور لائبیریا میں موجود اقوام متحدہ کی امن فوج بچوں کو جسم فروشی پر مجبور کرنے کے ساتھ انہیں زیادتی کا نشانہ بھی بنا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ اس طرح کے دعوے بلکل ٹھیک ہیں۔

اقوام متحدہ کو گزشتہ سالوں میں اپنی فوجوں کے حوالے سے اس طرح کے کئی الزامات کا سامنا رہا ہے۔

امن مشن کے نائب سیکریٹری جنرل کے مطابق اس طرح کی جنسی زیادتیاں بہت عام ہیں۔ جین ہول لیوٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ جب سے امن فوجوں کا قیام عمل میں آیا ہے مصیبت زدہ لوگوں کو اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں اس مسئلے کا سامنا ہر مشن میں کرنا پڑتا ہے‘۔


بی بی سی کی اس تحقیق کا آغاز ’جینریشن نیکسٹ‘ کے ہفتہ وار پروگرام کے لیے کیا گیا۔اس پرروگرام میں اٹھارہ سال سے کم عمر نوجوان کے خیالات اور تجربات کو پیش کیا جاتا ہے۔

ہیٹی میں ایک لڑکی جس کی عمر گیارہ سال سے بھی کم ہے، کہتی ہے کہ اسے امن فوجیوں نے ’پورٹ آف پرنس‘ میں صدر کے محل کے باہر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ایک چودہ سالہ لڑکی کا کہنا ہے کہ اسے دو سال قبل اغوا کیا گیا تھا اور اقوام متحدہ کے بحری فوج کی بیس میں لے جا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

تفصیلی میڈیکل ثبوتوں کے باوجود ان الزامات کو اقوام متحدہ نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ ثبوت ناکافی ہیں اور ملزم کو اس کے ملک واپس بھیج دیا گیا۔

بی بی سی کے مائیک ولیم ایک ایسی کم عمر لڑکی سے بات کر رہے ہیں جس کا کہنا ہے کہ اسے برازیل سے تعلق رکھنے والے امن فوجی سے زیادتی کا نشانہ بنایا تھا

اسی سال مئی میں ہونے والی بی بی سی کی ایک اور تحقیق کے مطابق لائبیریا میں باقاعدہ طور پر تارکین وطن کو خوراک کے بدلے جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اس بات کے ردِ عمل میں اقوام متحدہ نے اپنے امن فوجیوں پر نظر رکھنے کے لیے ملک میں پانچ سو مانیٹرز بھرتی کیے ہیں اور اس کے ساتھ تمام فوجیوں کے لیے اپنے رویے کو بہتر بنانے کے لیے تربیت لینے کو ضروری بنا دیا ہے۔

ایک مقامی غیر سرکاری ادارے کا کہنا ہے کہ امن فوجوں کے بارے میں جنسی زیادتی کی رپورٹس ’ان اعلانات کے باوجود کہ اب یہ زیادتیاں نہیں کی جائیں گی بہت عام ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد