BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 July, 2006, 17:06 GMT 22:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ سب سے ُبرا مجرم
انٹرنیٹ صارفین
ایک رپورٹ کے مطابق بچوں کی قابلِ اعتراض تصاویر والے ویب پیچز رپورٹ ہونے کے باوجود پانچ سال تک دیکھے جا سکتے ہیں۔

انٹرنٹ واچ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق آن لائن بچوں کی قابلِ اعتراض تصاویر کے سب سے بڑے مجرم روس اور امریکہ ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ 50 فیصد بچوں کی آن لائن قابلِ اعتراض تصاویر کا تعلق امریکہ سے ہوتا ہے۔

اپریل میں امریکہ کے اٹارنی جنرل نے اس مسئلے کے حل کے لیے قانون میں تبدیلیوں کی تجاویز پیش کی تھیں۔

البرٹو گونزالسیز نے تجویز کیا کہ بچوں کی قابلِ اعتراض تصاویر کو رپورٹ کرنے کی ذمہ داری انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں پر ہونی چاہئیے۔

جون میں مائیکروسافٹ، ٹائم وارنر اے او ایل، یاہو، ارتھ لنک یونائیٹذ آن لائن اور گمشدہ اور زیادتی شدہ بچوں کے قومی ادارے (NCMEC) پر مشتمل ایک ٹیکنالوجی کولیشن کا انعقاد ہوا جس میں امریکہ میں بچوں کے ساتھ زیادتی پر قابو پانے کے لیے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔

آئی ڈبلیو ایف کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ آئی ڈبلیو ایف نے کہا ہے کہ غیر قانونی مواد کا بڑا حصہ امریکہ میں اس لیے شائع ہوتا ہے کیونکہ امریکہ میں دنیا میں سب سے زیادہ آئی ایس پیز اور ویب ٹریفک ہیں۔

برے ترین مجرم

آئی ڈبلیو ایف کے نئے اعداد دنیا بھر میں آن لائن بچوں کے ساتھ زیادتی کی صرف ایک جھلک فراہم کرتے ہیں۔

بچوں سے زیادتی کے قانون کے بارے میں گونزالیز کی تجاویز

غیر قانونی مواد کے اعداد کا انحصار ویب صارفین کی ان رپورٹوں پر ہے جو کہ فاونڈیشن کی ویب سائیٹ یا ہاٹ لائن کے ذریعے کی جاتی ہیں۔

آئی ڈبلیو ایف نے اس سال کے شروع کے چھ مہینوں میں 14000 سے زائد مشکوک ویب سائیٹس کی رپورٹیں موصول کیں جو کہ 2005 کے شروع کے چھ مہینوں سے 24 فیصد زائد ہے۔

 رپورٹوں میں اضافے کی کئ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس میں بچوں کی زیادتی سے متعلق لوگوں میں برداشت کی کمی اور اس جرم سے لڑائی میں اپنے کردار کی اہمیت کا احساس سرفہرست ہیں۔
IWF کے چیف اگزیکیوٹو پیٹر رابنز کا خیال

ان رپورٹوں میں سے تقریباً 5000 میں بچوں کی قابلِ اعتراض تصاویر شامل تھیں۔ ان میں سے تقریباً 2500 کا تعلق امریکہ اور 730 سے زائد کا تعلق روس سے تھا۔

ایک سائیٹ کی اطلاع آئی ڈبلیو ایف کو 1999 میں دی گئی تھی۔ اسکے بعد سے یہ سائیٹ فاونڈیشن کو 96 بار رپورٹ ہو چکی ہے۔

آئی ڈبلیو ایف کا کہنا ہے کہ ان ویب سائیٹس کو شائع کرنے والےممالک کی انتظامیہ کو 20 مختلف مواقعوں پر آگاہ کیا گیا تھا۔

تاہم یہ ویب سائیٹس امریکہ اور روس کے درمیان ہر چند روز میں منتقل ہو جاتی تھیں جسکی بناء پر ان کو پکڑنا اور بند کرنا مشکل تھا۔

اس کے نتیجے میں باوجود مسلسل رپورٹوں کے یہ ویب سائیٹس مجرموں کودستیاب تھیں۔

287 میں سے مزید 8 فیصد بچوں کی قابلِ اعتراض تصاویر والی ویب سائیٹس آئی ڈبلیو ایف کی متعلقہ انتظامیہ کو مسلسل رپورٹوں کے باوجود ایک سے پانچ سالوں تک کام کرتی رہتی ہیں۔

عوامی رپورٹس

مجرم غیر تجارتی مواد کو بانٹنے کے لیے آن لائن تصویروں کے البم اور میسج بورڈز جیسے مفت ٹولز کا استعمال کرتے ہیں۔

امریکہ 57.7 فیصد تجارتی اور 49.5 فیصد غیر تجارتی تصاویر کو شائع کرتا ہے۔

انٹرنیٹ صارفین
UK میں رپورٹ کے 48 گھنٹوں میں سائیٹ بند ہو جاتی ہے

روس مزید 28.1 فیصد تجارتی اور 14.6 فیصد غیر تجارتی تصاویر کو شائع کرتا ہے۔

فہرست میں دیگر ممالک میں سپین، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کسی تجارتی سائیٹ کو شائع نہیں کرتا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد