BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 October, 2006, 04:54 GMT 09:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لاکھوں بچے جسم فروشی پر مجبور‘
بچہ
’ہر ملک کو بچوں پر تشدد روکنے کے لیئے حکمت عملی بنانی ہوگی‘
بچوں پر تشدد کے بارے میں اپنی پہلی رپورٹ میں اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ بہت سے بچے ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں ان پر ہونے والا تشدد نظروں سے اوجھ رہتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ارب سے زیادہ بچے ایسے ممالک میں رہتے ہیں استاد کے ہاتھوں بچے کی پٹائی جائز سمجھی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ بچوں کو کام پر لگوایا جاتا ہے اور ان میں بہت سو سے جنسی زیادتی بھی ہوتی ہے۔

اسی طرح کی ایک رپورٹ بہبود اطفال کی انجمن نے پیش کی ہے اور کہا ہے کہ دنیا بھر میں دس لاکھ سے زیادہ بچے زیر حراست ہیں جن میں سے نوّے فیصد نے چھوٹی موٹی چوری کے سوا کوئی بڑا جرم نہیں کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں بچے جرم نہ کریں۔

رپورٹ میں برطانیہ کے بارے میں کہا گیا کہ گزشتہ تیرہ سال میں یہاں زیر حراست بچوں کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں
جنسی سیاحت کا بازار
29 October, 2003 | آس پاس
پتھر دل ’والدین‘
28 October, 2003 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد