’لاکھوں بچے جسم فروشی پر مجبور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بچوں پر تشدد کے بارے میں اپنی پہلی رپورٹ میں اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ بہت سے بچے ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں ان پر ہونے والا تشدد نظروں سے اوجھ رہتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ارب سے زیادہ بچے ایسے ممالک میں رہتے ہیں استاد کے ہاتھوں بچے کی پٹائی جائز سمجھی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دس لاکھ سے زیادہ بچوں کو کام پر لگوایا جاتا ہے اور ان میں بہت سو سے جنسی زیادتی بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح کی ایک رپورٹ بہبود اطفال کی انجمن نے پیش کی ہے اور کہا ہے کہ دنیا بھر میں دس لاکھ سے زیادہ بچے زیر حراست ہیں جن میں سے نوّے فیصد نے چھوٹی موٹی چوری کے سوا کوئی بڑا جرم نہیں کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں بچے جرم نہ کریں۔ رپورٹ میں برطانیہ کے بارے میں کہا گیا کہ گزشتہ تیرہ سال میں یہاں زیر حراست بچوں کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہے۔ | اسی بارے میں جنسی سیاحت کا بازار29 October, 2003 | آس پاس پتھر دل ’والدین‘28 October, 2003 | آس پاس حاملہ خواتین کے لیئے خصوصی علامت09 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||