کانگو امن مشن، بھارتی فوجی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوریۂ کانگو میں باغیوں اور اقوام متحدہ کی امن فوج کے درمیان مسلح لڑائی میں ایک بھارتی فوجی سمیت کم سے کم چالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ مسلح جھڑپیں اس وقت پیش آئیں جب الائڈ ڈیموکریٹک فورسز کے باغیوں نے شمالی کیوو صوبے میں کانگو اور اقوام متحدہ کی فوج کے خلاف جوابی کارروائی کی۔ ہلاک ہونے والوں میں کانگو کے تین فوجی اور اقوام متحدہ کی امن فوج کا ایک بھارتی فوجی شامل ہیں۔ اس علاقے میں ساڑھے تین ہزار کانگولیز فوجیوں کو اقوام متحدہ امن فوج کے چھ سو اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ بھارتی امن فوجی کی ہلاکت کے ساتھ کانگو میں گزشتہ چھ سالوں کے دوران اقوام متحدہ امن فورس کے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد اب ساٹھ ہوگئی ہے۔ گزشتہ ہفتے سے پانچ ہزار سے زائد اقوام متحدہ کے امن فوجی ضلع ایتوری میں قیام امن کے لیے آپریشن کررہے ہیں۔ ان امن فوجیوں کا تعلق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور مراکش سے ہے۔ یہ امن فوجی باغیوں کے قبضے سے کچھ علاقے خالی کرانے کی کوشش میں ہیں۔ کانگو میں کل سولہ ہزار اقوام متحدہ کے امن فوجی تعینات ہیں لیکن اس کے باوجود باغی سرگرم ہیں۔ گزشتہ ہفتے نئے آئین پر ہونے والے ریفرنڈم کے دوران باغیوں نے انتخابی حکام پر حملہ کردیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مارچ میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران باغی انتشار پھیلا سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں جہاز سےگرکر120 ہلاک09.05.2003 | صفحۂ اول کانگو میں نئی حکومت کا قیام18.07.2003 | صفحۂ اول یوگنڈا: باغی حملہ‘ 170 ہلاک22 February, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||