انعام کی رقم کا ذکر حذف کر دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کی کتاب کا اردو ورژن ’سب سے پہلے پاکستان‘ کے نام سے مارکیٹ میں آ چکا ہے لیکن اس میں انہوں نے ایک تبدیلی کی ہے اور انگریزی میں شائع ہونے والی کتاب کا وہ حصہ خارج کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ القائدہ کے لوگوں کو امریکہ کے حوالے کرنے کے عوض پاکستان کو لاکھوں ڈالر ملے ہیں۔ اردو ترجمہ میں یہ تبدیلی اس کے تئیسویں باب کے پہلے پیراگراف میں کی گئی ہے جس کا عنوان ’تعاقب‘ ہے۔ انگریزی کتاب کے اس حصہ میں امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد القائدہ سے منسلک افراد کو پکڑنے میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ نیویارک میں اپنی کتاب کے منظر عام پر آنے کے محض دو دن بعد ہی جنرل پرویز مشرف نے تسلیم کیا تھا کہ ان سے ’غلطی‘ ہو گئی ہے اور اس کی روشنی میں کتاب میں ترمیم کی جائے گی۔ ستائیس ستمبر کو ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ’ یہ میری غلطی ہے۔یہ (رقم) حکومت پاکستان کے پاس نہیں آتی۔ مجھے یہ نہیں لکھنا چاہیئے تھا اور میں یقیناً آئندہ شائع ہونے والی کاپیوں میں ترمیم کروں گا۔‘ ادھر سنیچر کے روز جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ان کی کتاب کے اردو ورژن ’سب سے پہلے پاکستان‘ کی تمام تر آمدنی پرویز مشرف ٹرسٹ میں جائے گی اور اس پیسے سے غریب عوام کی مدد کی جائے گی۔ اسلام آباد میں اپنی انگریزی میں لکھی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ کے اردو ورژن کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کتاب کا ترجمہ ان کے بہنوئی نے کیا ہے اور اردو میں اس کا نام ’سب سے پہلے پاکستان‘ رکھا گیا ہے۔ دنیا بھر میں صدر مشرف کی انگریزی میں لکھی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ کی ستر ہزار سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ کارگل کے حوالے سے صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے بذات خود نواز دور میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو اس بارے میں دو گھنٹے کی بریفنگ دی تھی اور حکومت کو کارگل سے متعلق منصوبے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا تھا اور یہ یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ اس معاملے میں عسکری پہلو سے حکومت کو کسی طور بھی مایوسی یا ناکامی نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں تھا وہ باکل غلط کہتے ہیں کیونکہ اس منصوبے کی تمام تفصیلات کا عمل خفیہ اور سکیورٹی کے اداروں سمیت تمام متعلقہ اداروں کو تھا خود چوہدری شجاعت حسین بھی اس بات کو جانتے تھے۔ صدر مشرف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا یہ کہنا کہ کارگل کے معاملے میں ان کا کوئی حصہ نہیں تھا، باکل غلط بات ہے اس بارے میں تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں اور وہ ساری دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ سیاسی حکومت کا تھا۔
نواز شریف اور ان کی پارٹی کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ صدر نے اپنی کتاب میں کارگل کے حوالے سے غلط بیانی کی ہے، اس بارے میں صدر مشرف کا کہنا تھا کہ کارگل کے معاملے میں پاکستان کو جو ہزیمت اٹھانی پڑی۔ نواز شریف امریکہ گئے اور جس طریقے سے فوجیوں کی واپسی ہوئی تو اس معاملے میں نواز شریف بطور وزیراعظم اپنی ذمہ داریاں نبھا نہیں سکے اور اسی لیئے وہ ان کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانا چاہتے ہیں۔ وہ سارا کچھ ان پر ڈال کر اپنی جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں مشرف کتاب، فروخت ذرا کم کم 25 September, 2006 | پاکستان میرے پاس کارگل کا ثبوت ہے: نواز21 October, 2006 | پاکستان ’نواز شریف کو کارگل کا علم تھا‘13 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||