عائشہ صدیقہ کی کتاب ریلیز ہوگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افواج پاکستان کے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے بارے میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی کتاب کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتزاز احسن اور دیگر مقررین نے کہا ہے کہ فوج کی حکمرانی سے جان چھڑانے اور عوامی حکمرانی قائم کرنے کے لیے یہ بہترین موقع ہے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ بھارت پاکستان کا دشمن نہیں تھا بلکہ نان فرینڈلی یعنی غیر دوست ملک تھا لیکن پاکستان نے انیس سو پینسٹھ کی جنگ چھیڑ کر اُسے دشمن بنا لیا۔ ان کے مطابق پچاس کی پہلی دہائی میں فوج کی سیاست میں مداخلت کے بعد انہوں نے قائد اعظم کی خواہشات کے برعکس پاکستان کو نیشنل سیکورٹی سٹیٹ بنایا، جس کی ذمہ داری پانچ لاکھ فوج کی فلاح تک محدود رہی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی ملک میں فوج کو عوام پر حکمرانی کا آئینی، قانونی، اخلاقی اور سیاسی طور پر حق حاصل نہیں ہے۔ ان کے مطابق جب سکیورٹی سٹیٹ بنتی ہے تو اُسے دشمن ڈھونڈنا ہوتا ہے اور پاکستان نے اپنے پڑوسی ملک بھارت کو دشمن بنایا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان کا پہلا المیہ پاکستان کو فلاحی ریاست سے سکیورٹی سٹیٹ بنانا اور دوسرا بڑا المیہ مذہبی گروہوں کو فوج کے ساتھ ملا کر ’ملا ملٹری الائینس‘ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوج حکمرانی کی لالچ کی وجہ سے اقتدار سنبھالتی ہے نہ کہ سیاستدانوں کی ناکامی کی وجہ سے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں جس زمین پر آرمی کا نیا ہیڈ کوارٹر بنایا جا رہا ہے اس زمین کی مالیت دوسو ارب روپے ہے اور یہ زمین بیچ کر رقم تعلیم پر خرچ کی جائے۔ پروگرام کے مطابق جمعرات کی سہ پہر کو اسلام آباد کلب میں ’ملٹری انکارپوریٹڈ‘ نامی کتاب کی رونمائی کی تقریب ہونی تھی لیکن عین وقت پر کلب انتظامیہ نے منتظمین کو جگہ فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تقریب کو تعطل کا شکار کرنے کا الزام حکومت پر لگایا اور کہا کہ وزارت داخلہ میں قائم ’کرائسس مینجمینٹ سیل‘ نے اسلام آباد کلب سمیت شہر کے تمام ہوٹلوں کی انتظامیہ کو تقریب کے لیے جگہ نہ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ متبادل جگہ کی تلاش میں ہیں اور ہر حال میں آج ہی اپنی کتاب کی تقریب منعقد کریں گی اور آخر کار ایک غیرسرکاری تنظیم ’لیڈ‘ نے اپنے دفتر میں انہیں تقریب منعقد کرنے کی اجازت دی جس میں ریٹائرڈ جرنیلوں، دانشوروں، صحافیوں اور شہری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کافی تعداد میں خواتین اور مرد شریک ہوئے۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ انہوں نے ’اکیڈمک‘ (تحقیقی) کام کیا ہے اور اس کام میں حکومت کی جانب سے رکاوٹ ڈالی گئی اور انہیں دھمکیاں بھی دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی پی‘ کے ذریعے ایک گمنام تجزیہ کار کے حوالے سے جاری کردہ خبر میں کتاب کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا گیا ہے۔ اس بارے میں وزیر داخلہ اور وزیر اطلاعات سمیت حکومت کے کئی ذمہ داران سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہ ہوسکا۔ | اسی بارے میں دفاعی بجٹ میں 27 ارب کا اضافہ05 June, 2006 | پاکستان پاک چین دو دفاعی معاہدے16 August, 2006 | پاکستان دفاعی بجٹ میں گیارہ فیصد اضافہ05 June, 2006 | پاکستان دفاعی اخراجات کم کریں:صوبائی وزیر11 November, 2005 | پاکستان ’ دفاعی بجٹ کم نہیں کرسکتے‘31 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||