BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 August, 2007, 05:54 GMT 10:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنوبی وزیرستان: چار حملہ آور ہلاک

فائل فوٹو
مقامی انتظامیہ کے مطابق حسن خیل میں ٹل سکاؤٹس فورس کی ایک چوکی پر دھماکہ ہوا ہے (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں نامعلوم حملہ آوروں نے سکاؤٹس فورس کی ایک چوکی پر حملہ کیا ہے جبکہ سکاؤٹس فورس کی جوابی کارروائی میں چار حملہ آور ہلاک ہوگئے ہیں۔

حملہ آور سکاؤٹس فورس کے محاصرے میں ہیں اور وانا سے مزید فورس پہنچ گئی ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیرستان نے کہا ہے کہ پیر کو صبح پانچ بجے وانا سے پچیس کلومیٹر دور مشرق کی جانب درگئی میں نامعلوم حملہ آوروں نے سکاؤٹس فورس کی ایک چوکی پر حملہ کیا۔ انہوں نے حملہ میں راکٹ اور چھوٹے اسلحہ کا بےدریغ استعمال کیا تاہم حملے میں سکاؤٹس فورس کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فورسز کی جوابی کارروائی میں چار حملہ آور ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق کے مطابق حملہ آور سکاؤٹس فورس کے محاصرے میں ہیں تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حملہ آور غیرملکی ہیں یا مقامی شدت پسند۔

مقامی افراد کے مطابق حملے کے بعد وانا۔ ٹانک شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی وزیرستان میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب افغان سرحد کے قریب مانڑہ اور غلام خان چیک پوسٹوں پر حملے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورس کے دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق شمالی وزیرستان میں رات کو سپین وام کے علاقے حسن خیل میں ٹل سکاؤٹس فورس کی ایک چوکی پر دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں کیپٹن اسد اور نائیک کرم علی زخمی ہوگئے جن کو بنوں آرمی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں گزشتہ پانچ سال سے مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں۔اس عرصے میں کئی معاہدے بھی طے پائے لیکن کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

کابل میں پاکستان اورافغانستان کا مشترکہ جرگہ بھی منعقد ہوا ہے جس میں وزیرستان کے عمائدین نے حصہ نہیں لیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جرگے کے مثبت نتائج ہوں گے، لیکن عام لوگوں کا خیال ہے کہ جرگے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوں گے۔

اسلام آباد سے ہارون رشید کی رپورٹ کے مطابق بی بی سی اردو سروس کو اپنا نام مسعود رحمان ظاہر کرنے والے ایک شخص نے جنوبی وزیرستان میں کل رات فوجی ٹھکانوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اپنے آپ کو قبائلی جنگجو عبداللہ محسود کا چچا زاد بھائی اور ان کا ساتھی ظاہر کرنے والے اس شخص نے اس کارروائی کو عبداللہ کی ہلاکت کے بدلے کا آغاز قرار دیا ہے۔

جرگہمذاکرات شروع
وزیرستان: جرگے کو درپیش مسائل
باجوڑ حملے کے اثرات
کیا وزیرستان معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
کون کسے مار رہا ہے
وزیرستان میں کیا ہوا، کیا ہو رہا ہے، کیا ہوگا؟
اسی بارے میں
شمالی وزیرستان، تین ہلاک
13 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد