وزیرستان: اٹھارہ شدت پسند ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوجی حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری کارروائی کے دوران گزشتہ 24 گھنٹے میں اٹھارہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں جب کہ چھ فوجی بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کو ایک جوابی کاروائی میں پانچ حملہ آور مارے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر علاقے کو کنٹرول کرنے کےلیے گن شپ ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کیا گیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ رات بھی انتظامیہ کے مطابق ایک کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے تیرہ حملہ آواروں کو ہلاک کردیا تھا۔ شمالی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو گیارہ بجے کے قریب ایک فوجی قافلہ میرانشاہ سے بنوں جا رہا تھا کہ صدر مقام میرانشاہ سے تین کلومیٹر مشرق کی طرف چشمہ پل پر فوجی گاڑی بارود ی سرنگ سے ٹکراگئی، جس کے نتیجے میں چھ فوجی اہلکار زخمی ہوئے اور گاڑی بھی تباہ ہوگئی۔ واضح رہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیےگئے ہیں جب گورنر سرحد علی
شمالی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی مولوی نیک زمان کے مطابق گزشتہ روز جرگہ میں شامل ایک پانچ رکنی وفد نے مقامی طالبان سے ملاقات کی ہے۔ تاہم طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ جرگہ میران شاہ میں موجود تو ہے لیکن تاحال ان کا جرگہ کے کسی رکن سے رابطہ نہیں ہوا ہے۔ |
اسی بارے میں شمالی وزیرستان، تین ہلاک13 July, 2007 | پاکستان ٹانک کشیدہ، فوج تعینات 13 July, 2007 | پاکستان تین حملہ آوروں کی گرفتاری کا دعویٰ 13 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||