شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | وردی چھوڑنے کے دو سال بعد تک جنرل مشرف الیکشن نہیں لڑ سکتے: پٹیشنر |
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایک سابق ڈاکٹر نے جمعہ کو سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں سترہویں ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ صدارت کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔ درخواست گزار پروفیسر ڈاکٹر انوارالحق نے اپنی پٹیشن میں موقف اختیار کیا ہے کہ سترہویں ترمیم غیرآئینی ہے اور آئین میں یہ ترمیم صدر جنرل پرویز مشرف کے نام پر کی گئی ہے۔ انہوں نے درخواست میں کہا کہ آئین میں جب کوئی بھی ترمیم کی جاتی ہے تو وہ کسی ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک یا ادارے کے لیے کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں کوئی ایسی ترمیم نہیں کی جاسکتی جو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو۔ درخواست گزار نے کہا کہ اس ترمیم کے تحت صدر جنرل پرویز مشرف کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ آئندہ انتخابات بھی وردی میں لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 2003 میں صدر جنرل پرویز مشرف وردی میں تھے اور انہوں نے وردی کے زور پر پارلیمنٹ سے سترہویں ترمیم پاس کروائی تھی اور متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت انہیں 2004 کے آخر تک اپنی وردی اتار دینی چاہیے تھی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔  | | | ڈاکٹر انوار الحق صدارتی الیکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں | درخواست گزار نے کہا کہ پرویز مشرف صدر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سرکاری ملازم بھی ہیں اس لیے آئین کے تحت وہ وردی چھوڑنے کے بعد بھی دو سال تک الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر جنرل پرویز مشرف وردی میں آئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو دوسرے سرکاری ملازمین پر عائد دو سال کی پابندی ختم کر کے انہیں بھی دوران ملازمت الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ درخواست گزار نے تئیس اگست کو الیکشن کمشن میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں لہذا ان کو گائیڈ کیا جائے۔ اس کے بعد انہوں نے اٹھائیس اگست کو ایک یاد دہانی کا خط لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر جنرل پرویز مشرف سرکاری ملازم ہو کر صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں تو وہ بائیسویں گریڈ کے ملازم ہیں تو وہ کیوں نہیں انتخابات میں حصہ لے سکتے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے باہر اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب وہ یہ پٹیشن دائر کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے تو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی انتظامیہ نے ان کا تبادلہ وزارت صحت میں کر دیا ہے۔ |