شریف کی واپسی اخبارات میں سرخیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی ملک واپسی کے اعلان کو تمام قومی اخبارات نے اپنی شہ سرخیوں کا موضوع بنایا ہے۔ روزنامہ ’جنگ‘ کی سرخی ہے ’دس ستمبر کو اسلام آباد ایئرپورٹ پر اتریں گے‘ نوازشریف کا اعلان ۔ روزنامہ ’نوائے وقت‘ کی شہ سرخی ہے کہ ’ شہباز شریف کے ساتھ دس ستمبر کو اسلام آباد پہنچوں گا، نواز شریف روزنامہ ’ایکسپریس‘ نے اسی خبر کو اس انداز میں شائع کیا ہے ’دس ستمبر کو اسلام آباد، نواز شریف نے واپسی کی تاریخ دے دی ۔ جی ٹی روڈ سے بذریعہ جلوس لاہور آنے کا اعلان۔‘ روزنامہ جنگ نے شریف برادران کے واپسی کے اعلان پر حکمران جماعت مسلم لیگ چودھری شجاعت حسین کے بیان کو سپُر لیڈ کے طور پر شائع کیا۔ اخبار لکھتا ہے ’معاہدے کی وجہ سے نواز شریف دس ستمبر کو واپس نہیں آئیں گے، بے نظیر بھٹو سے ابھی نو فیصد معاملات طے ہوئے، صدر کو پارٹی کے تحفظات سے آگاہ کردیا۔‘ روزنامہ ’نوائے وقت‘ نے حکومتی ردعمل کو صفحۂ اول پر ایک کالمی خبر کا موضوع بنایا ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ نواز شریف اعلان کے باوجود واپس نہیں آسکیں گے، صدارتی ذرائع ۔ اعلان صرف سیاسی ساکھ بچانے کے لئے کیا گیا، معزز شخصیت نے مشرف کو پیغام میں یقین دلایا کہ دونوں واپس نہیں آئیں گے۔‘ اخبارات نے شریف برادران کی طرف سے واپسی کے اعلان پر مسلم لیگی کارکنوں کے ردعمل کو بھی نمایاں طور پر شائع کیا ہے جبکہ انگریزی اخبار دی نیوز اور نوائے وقت نے نواز شریف کی واپسی کے اعلان کی خبر کے علاوہ تصاویر بھی شائع کی ہیں جن میں کارکن جشن منا رہے ہیں۔ جنگ کی خبر ہے کہ نواز شریف کی واپسی اسلام آباد سے لاہور تک شاندار استقبال کرینگے سیاسی رہنما جبکہ ایکسپریس لکھتا ہے کہ ’ بیس لاکھ کارکن نواز شریف کا استقبال کرینگے، مسلم لیگ۔‘ انگریزی روزنانہ نیوز کی سرخی ہے کہ دس ستمبر، اسلام آباد جبکہ ایک دوسرے انگریزی اخبار نیشن کی سرخی کچھ یوں ہے ’منزل اسلام آباد ۔‘ دی نیشن نے شریف برادران کی واپسی کے خبر کے ساتھ ہی ایک خبر دی ہے کہ نواز شریف دس ستمبر کو چارٹر طیارے کے ذریعے پاکستان واپس آئیں گے۔ اخبار ڈان کی سرخی ہے کہ ’نواز دس ستمبر کو اسلام آباد اتریں گے جبکہ ڈیلی ٹائمزلکھتا ہے کہ ’ہم دس ستمبر کو واپس آئیں گے نوازشریف ۔‘ شریف برادران کے وطن واپسی کے اعلان پر نوائے وقت نے اپنے اداریہ میں صدر پرویز مشرف کو تجویز دی ہے کہ وہ افہام تفہیم کی راہ اختیار کریں۔
اخبار لکھتا ہے کہ ’اگرصدر جنرل مشرف وردی یا بغیر وردی اپنے دوبارہ انتخاب اور شریف برادران کی ملک واپسی روکنے پر مصر رہیں گے اور اس کے لئے ملک کے مروجہ قانون، آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بھی خاطر میں نہیں لائیں گے تو اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا فساد ان کے ڈولتے ہوئے اقتدار کے سنگھاسن کو مزید جھٹکے لگانے کا ہی موجب بنے گا اس لئے انہیں ضد چھوڑا کر اور انا پرستی کے خول سے باہر نکل کر سیاسی افہام و تفہیم کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔‘ اخبارات میں شریف برادران کی وطن واپسی کے اعلان کے حوالے سے اٹارنی جنرل پاکستان ملک محمد قیوم کا بیان بھی شائع ہوا ہے۔ روزنامہ جنگ کی خبر ہے کہ شریف برادران کی دوبارہ جلاوطنی سپریم کورٹ کی توہین ہوگی ، اٹارنی جنرل نوائے وقت نے انارٹی جنرل کا بیان یوں شائع کیا ہے ’شریف برادران کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں واپسی سے نہیں روکا جاسکتا، ملک قیوم ۔‘ |
اسی بارے میں ’سودے بازی نہیں ہونے دیں گے‘30 August, 2007 | پاکستان ’صوبائی اسمبلی کے بغیر،صدرکاانتخاب‘30 August, 2007 | پاکستان نواز واپسی، پیپلز پارٹی کا خیرمقدم31 August, 2007 | پاکستان مارشل لاء مسئلے کا حل نہیں: مشرف31 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||