BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف چھوڑنے والے قبول: نواز

میاں نواز شریف
نواز شریف چودہ مہینے جیل میں رہ چکے ہیں
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں نواز شریف نے اپنی وطن واپسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت کے وہ ارکان جو اس مرحلے پر جنرل مشرف کا ساتھ چھوڑ کر ان کی تحریک میں شامل ہو جائیں گے انہیں قبول کر لیا جائے گا۔

لندن کے ڈورچسٹر ہوٹل میں ہونی والی پریس کانفرنس میں جہاں انہوں نے اپنی پرانی دشمنیوں اور انتقام کو بھلا کر پاکستان جانے کی بات کی وہاں انہوں نے صدر مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ چھ کے تحت آئین سے مبینہ طور پر انحراف کرنے پر مقدمہ دائر کرنے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا۔


جنرل مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ چھ کے تحت مقدمہ چلانے کے ایک براہ راست سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ڈکٹیٹر شپ کے خلاف اور جمہوریت کو بحال کرنے کے لیے تحریک چلانے جا رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے آئین کی دفعہ چھ کو استعمال کرنے کے بارے میں کہا کہ وہ اس کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔

ڈکٹیٹر کا لشکر
 آؤ ڈکٹیٹر کے لشکر سے نکل کر عوام کے قافلے میں شامل ہو جاؤ۔ جو اس وقت صدر مشرف کو وردی یا وردی کے بغیر ووٹ دے گا اس کی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی
نواز شریف

اس پریس کانفرنس میں جہاں بین الاقوامی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود تھے وہاں نواز شریف سے بہت سے سوالات پوچھے گئے اور سوائے ایک سوال کے انہوں نے تمام سوالات کے جواب بڑے اطمینان سے دئیے۔

نواز شریف نے صرف اس سوال کو تشنہ چھو ڑ دیا کہ ’ آپ مشرف حکومت کے خلاف اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے تحریک چلانے جا رہے ہیں ایسے میں اے پی ڈی ایم میں شامل متحدہ مجلس عمل بلوچستان میں حکمران جماعت کے ساتھ حکومت میں موجود ہے تو اس تضاد پر آپ کیا کہیں گے۔‘

میاں شہباز شریف جو اس پریس کانفرنس میں اخباری نمائندوں کو سوالات کرنے کی دعوت دے رہے تھے انہوں نے بظاہر نواز شریف کو اس سوال کا جواب دینے کا موقعہ ہی نہیں دیا اور آگے بڑھ گئے۔

اس سوال پر کہ کیا وہ (نواز شریف) ایک وعدہ خلافی کرتے ہوئے دس سال پہلے وطن واپس جانے میں کوئی اخلاقی دباؤ محسوس کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ سعودی حکمرانوں سے ان کے ذاتی تعلقات رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں دیئے جانے والے بیانات کو پراپگنڈہ قرار دیا۔

لبنان کےسابق وزیر اعظم رفیق حریری کے صاحزادے سعد حریری کی طرف سے ان کو وطن واپس نہ جانے پر رضا مند کرنے کی کوشش کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی خبروں پر انہوں نے مکمل طور پر لاعملی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں نہیں کہ سعد حریری کی طرف سے اس طرح کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔

تشنۂ سوال
 نواز شریف نے اس سوال کو تشنہ چھو ڑ دیا کہ وہ مشرف حکومت کے خلاف اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے تحریک چلانے جا رہے ہیں ایسے میں اے پی ڈی ایم میں شامل متحدہ مجلس عمل بلوچستان میں حکمران جماعت کے ساتھ حکومت میں موجود ہے تو اس تضاد پر وہ کیا کہیں گے

اس پریس کانفرنس کے موقعہ پر پاکستان سے لندن آئے ہوئے مسلم (ن) کے اراکین بڑے پرجوش نظر آ رہے تھے اور نواز شریف سے اپنی واپسی کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی انہوں نے پریس کانفرنس میں تالیاں بجا کر اپنی خوش کا اظہار کیا۔

حکومت میں شامل ارکانِ پارلیمنٹ اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں سے میاں نواز شریف نے کہا ’ آؤ ڈکٹیٹر کے لشکر سے نکل کر عوام کے قافلے میں شامل ہو جاؤ‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو اس وقت صدر مشرف کو وردی یا وردی کے بغیر ووٹ دے گا اس کی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

صدر مشرف کے بے نظیر سے ہونے والے مذاکرات یا ’ڈیل‘ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ یہ سودے بازی نہیں ہونے دیں گے اور اس کا عوام کی حمایت سے بھر پور مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آل پارٹیڈ ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے اس کو ناکام کر دیں گے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق شریف برادران کی واپسی کے لیے ابتدائی طور پر تین فضائی کمپنیوں سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
کسی سےڈیل نہیں ہوئی: درانی
30 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد