فوج میں امکانی تبدیلیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کو وردی اتارنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے فوج کی سربراہی کے لیے اپنے جانشیں کا انتخاب کرنا ہے جس کے لیے پاکستان اخبارات میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے لیے اپنے بعد اس اہم عہدے پر انتخاب کرنے کے لیے امیدواروں کی کوئی بہت طویل فہرست نہیں بلکہ درحقیقت تین نام ہی موجود ہیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر نئی تقرری کے علاوہ اس سال اکتوبر میں چیئرمین جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹنٹ جنرل احسان کی ریٹائرمنٹ بھی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ وائس چیف آف آرمی اسٹاف بھی مدت ملازمت پوری پونے پر سبکدوش ہو رہے ہیں۔ وردی اتارنے کے فیصلہ کے ساتھ ہی ان دونوں عہدوں پر بھی وقت سے پہلے ہی تبدیلیاں کرنے پڑیں گی اور لیفٹینٹ جنرل احسان ریٹائر ہوجائیں گے جبکہ لیفٹینٹ جنرل احسن سلیم حیات کو اگر چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر نامذ نہ کیا گیا تو وہ مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائر ہو جائیں گے۔ بصورت دیگر انہیں ایک سال کی توسیع دی جا سکتی ہے۔ آرمی سربرارہ کے عہدے کے لیے دو دیگر نام جو سامنے آ رہے ہیں ان میں دس کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق کیانی شامل ہیں۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کے پس منظر میں لندن میں ہونے والی بات چیت میں لیفٹیننٹ جنرل اشفاق کیانی کے کردار کے پیش نظر یہ کہنا بعید از قیاس نہیں ہوگا کہ وہ جنرل مشرف کا انتخاب ہو سکتے ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||