عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کا، پشاور |  |
 | | | صدر کو چاروں صوبوں سے باری باری منتخب کرنے کی تجویز |
صوبہ سرحد کی حکومت نے صوبائی خود مختاری سے متعلق آئین میں ترامیم کے لیے سترہ تجاویز پیش کی ہیں جن میں صدر کا باری باری چاروں صوبوں سے انتخاب اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور حزب اختلاف کے رہنماؤں سے مشاورت کرنےکی تجاویز بھی شامل ہیں۔ صوبائی خودمختاری سے متعلق صوبائی کابینہ کے ذیلی کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل علی حقانی نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کمیٹی کی سفارشات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی کابینہ نے بدھ کو ہونے والے آٹھ گھنٹے کے طویل اجلاس میں کافی بحث و تمحیص کے بعد پچیس میں سے سترہ تجاویزکی منظوری دی ہے۔ مولانا فضل علی حقانی کا کہنا تھا کہ چھ صوبائی وزراء پر مشتمل کمیٹی کی تجاویز میں یہ سفارش بھی شامل ہے کہ پاکستان کے صدر کا انتخاب چاروں صوبوں سے باری باری ہو اور اس کا آغاز سب سے کم آبادی رکھنے والے صوبے سے ہونا چاہیے اور اس کے علاوہ ایک اور تجویز یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور حزب اختلاف کے رہنماوں سےمشاورت کی جائے۔ کمیٹی نے کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے، وفاقی ملازمتوں میں آبادی اور غربت کی بنیاد پر صوبوں کو حصہ دینے، پسماندگی، وسائل اور رقبے کی بنیاد پر محاصل کی تقسیم، سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کے قومی مالیاتی کمیشن کے  | گورنر کے اختیارت میں کمی  صوبائی خود مختاری سے متعلق کمیٹی نے صوبہ سرحد اسبملی کی جانب سے دو مرتبہ حسبہ بل کی منظوری کے بعدگورنر اور مرکزی حکومت کے ساتھ پیدا ہونے والے اختلافات کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنر کے اختیارت کو کم کرنے کے سلسلے میں کئی تجاویز پیش کی ہیں  صوبہ سرحد |
چیئرمین کے طور پرتقرری، مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس سال میں دو بار بلانے اور قدرتی گیس، برقی قوت اور معدنی وسائل پر عائد ٹیکس اور رائلٹی وفاقی مجموعی فنڈ میں جمع کرانے کی بجائے براہ راست صوبے کو دینے کی تجاویز دی ہیں۔صوبائی خود مختاری سے متعلق کمیٹی نے صوبہ سرحد اسبملی کی جانب سے دو مرتبہ حسبہ بل کی منظوری کے بعدگورنر اور مرکزی حکومت کے ساتھ پیدا ہونے والے اختلافات کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے گورنر کے اختیارت کو کم کرنے کے سلسلے میں کئی تجاویز پیش کی ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ صوبائی اسمبلی کو برخاست کرنے سے متعلق گورنر کو حاصل آئینی اختیارات ختم کیے جائیں اور اس طرح صوبائی اسمبلی کا منظور شدہ بل گورنر کے پاس دستخط کرنے کے لیے بھیجے جانے کے سات روز بعد بھی اگر انہوں اس پر دستخط نہیں کیے تو اس صورت میں بل کو منظور سمجھا جائے۔اس کے علاوہ یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ صوبائی وزراء کی تقرریوں یا استعفوں کی منظوری میں وزیراعلیٰ کو گورنر سے مشاورت کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔ کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ صوبے کا گورنر دوسرے صوبے کی بجائے متعلقہ صوبے سے ہوناچاہیے۔ فضل علی حقانی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان سفارشات کی تیاری میں حزب اختلاف کی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی ہے اور اس سلسلے میں ان سے مسودے میں اپنی تجاویز شامل کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی مگر بقول ان کے کمیٹی کو حزب اختلاف کی جانب سے کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی سفارشات پر مبنی مسودہ مرکزی حکومت کو بھیجا جاچکا ہے۔ |