’ڈیورنڈ لائن کو سرحد کبھی نہ مانتے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سابق طالبان حکومت کے سفیر ملا محمد ضعیف کا کہناہے کہ طالبان کے ساتھ مفاہمت اور افغانستان میں مستقل امن کا قیام امریکہ کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے کیو نکہ وہ نہیں چاہتا کہ طالبان ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ کابل میں نظربند ملا ضعیف سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے عبدالحئی کاکڑ نے ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے جس کا دوسرا حصہ درج ذیل ہے۔ س :اس بات میں کہاں تک صداقت ہے کہ طالبان پاکستان کی پیداوار ہیں؟ ج: میں اس بات سے متفق نہیں ہوں۔ میں طالبان تحریک کے بانی ارکان میں سے ہوں۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ طالبان تحریک پاکستان کی پیداوار نہیں ہے۔ افغانستان کی ابتر صورتحال نے ہمیں اس تحریک کی داغ بیل ڈالنے پر مجبور کیا تھا۔ قندہار پر طالبان کے قبضے کے بعد ہی پاکستان نے طالبان سے رابطے کی کوشش کی جس میں بالاخر اسے کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ طالبان کو بھی پاکستان کی ضرورت تھی تاکہ طالبان وہاں با آسانی آجا سکیں۔ پاکستان نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ پاکستان کا طالبان پر اثر ونفوذ بہت زیادہ تھا۔ س: کیا یہ سچ ہے کہ طالبان دور حکومت میں افغانستان کی داخلہ اور خارجہ پالیسی پاکستان کے کنٹرول میں تھی؟ ج: یہ بات بالکل غلط ہے ۔ہاں، البتہ پاکستان کے طالبان کے ساتھ مفادات وابستہ تھے۔ طالبان نے سابقہ افغان حکومتوں کے برعکس پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کبھی کوشش نہیں کی۔
طالبان نے پاکستان کے دشمن ملک ہندوستان کوافغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جہاں تک طالبان کے اندرونی معاملات پر پاکستان کے کنٹرول کا تعلق ہے۔ ہم نے اپنی حاکمیت بر قرار رکھی۔ مثال کے طور پر پاکستان نے افغانستان میں موجود چند مطلوب پاکستانیوں کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جو طالبان نے ٹھکرا دیا۔ جب طالبان نے بدھا کے مجسمے کو مسمار کرنے کا فیصلہ کیا تو میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ معین الدین حیدر کے ساتھ افغانستان آیا۔ انہوں نے بھر پور کوشش کی کہ طالبان اپنا فیصلہ واپس لیں لیکن طالبان نے پاکستان کی یہ بات ماننے سے انکار کردیا۔ س: کیا ڈیورنڈ لائن کے تنازعے پر پاکستان نے طالبان سے بات چیت کی تھی؟ ج: ہاں، پاکستان نے کئی بار اس مسئلے کو اٹھانے کی کوشش کی۔ پاکستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ معین الدین حیدر، وزارت خارجہ اور آئی ایس آئی کے اعلیٰ اہلکاروں نے کئی مواقع پر مجھ سے کہا کہ ڈیورنڈ لائن کا احترام ہوناچاہیے۔ میں نے جواب میں کہا کہ ہم اس موضوع پر بات نہیں کرسکتے کیونکہ یہ طالبان کا نہیں افغان عوام کا مسئلہ ہے۔ میں نے کہا کہ جب تک افغانستان میں عوامی ادارے نہیں بنتے اور اقوام متحدہ ہماری حکومت تسلیم نہیں کرتی تب تک ہم اس موضوع پر مذاکرات کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ س: اس کا مطلب یہ ہوا کہ طالبان کا ڈیورنڈ لائن کے بارے میں وہی موقف تھا جو افغانستان میں بادشاہوں، کیمونسٹ اور مجاہدین کی سابقہ حکومتوں کا تھا۔ ج: اصل میں افغانستان کی صورتحال ایسی نہیں تھی کہ ہم اس موضوع پر بات کرتے۔
س: اگر صورتحال ویسی ہی ہوتی جس طرح آپ لوگ چاہ رہے تھے تو کیا طالبان پاکستان کی یہ بات مان لیتے کہ ڈیورنڈلائن کو مستقل بین الاقوامی سرحد تسلیم کیا جائے۔ ج: نہیں، یہ بات ہم کبھی بھی نہ مانتے۔ یہ حق سرحد کے آرپار آباد لوگوں کا ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ ان کی زبان، مذہب، رسم و رواج اور روایات مشترک ہیں۔ جنرل پرویز مشرف، حامد کرزئی اور امریکا کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کریں۔ یہ ایک قوم کے دل پر کھینچی گئی لکیر ہے۔ س: آپ کیا سمجتھے ہیں کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان جاری لڑائی مسئلے کا واحد حل ہے یا کوئی اور راستہ بھی ہے؟ ج: افغانستان میں جاری جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے کہ یہ کسی بھی وقت پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ میں طالبان کا نہ حامی اور نہ ہی مخالف ہوں لیکن میرے خیال میں امریکیوں نے طالبان پر جنگ مسلط کر دی ہے۔ امریکہ طاقت کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے۔میرے خیال میں امریکہ کا افغانستان پر حملہ اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ افغانستان پر قبضے کے ابتدائی دنوں میں امریکہ کا اچھاخاصا کنٹرول تھا۔ امن وامان کی صورتحال اچھی تھی۔ ان دنوں میں امریکہ کے زیر سایہ حامد کرزئی کی حکومت نے طالبان کو عام معافی دینے کا اعلان کیا لیکن کچھ ہی عرصے بعد امریکہ نے طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا۔ طالبان کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا اور ان کو دیوار کے ساتھ لگایا گیا۔ طالبان کے پاس موت یا عزت کے علاوہ اور کوئی راستہ باقی نہ رہا لہذا طالبان نے بے عزتی کی بجائے موت کو ترجیح دی۔
س: آپ کے خیال میں اس جنگ سے باہر نکلنے کا کیا حل ہے؟ ج: میں سمجھتا ہوں کہ طالبان کے ساتھ مفاہمت اور افغانستان میں مستقل امریکہ کا واحد مقصد طالبان کی موت یا ہلاکت ہے اور جب تک اس پالیسی میں تبدیلی نہیں آتی صورتحال اسی طرح خراب ہوگی۔ طالبان اس وقت محکوم اور مجبور ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ اصل ذمہ داری امریکہ، اس کے اتحادیوں اور افغان حکومت کی بنتی ہے کہ وہ طالبان کو موقع دیں اور ان کے ساتھ ایسا معاہدہ کریں کہ وہ موت و قید کی خوف سے آزاد مذاکرات کی میز پر آجائیں۔ س: پاکستان اور افغانستان نے شورش زدہ علاقوں میں جرگہ بلانے کا فیصلہ کیا ہے کیا یہ طالبان کے لیے ایک سنہری موقع نہیں ہے کہ وہ امن کی طرف لوٹ جائیں؟ ج: میرے خیال میں اس جرگے کی راہ میں زیادہ مشکلات حائل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور افغانستان پھنس چکے ہیں۔ دونوں کے اہداف مختلف ہیں لہذا کوئی بھی جرگے کے انعقاد یا اس کے نتائج کے بارے میں مخلص نہیں ہے۔ پاکستان میں فوج اور جنرل مشرف کچھ اور چاہتے ہیں جبکہ عوام کچھ اور جبکہ یہاں افعانستان میں امریکہ اور کرزئی حکومت کے مقاصد عوام کی خواہشات سے متصادم ہیں۔ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف افغانستان پاکستان پر مداخلت کا الزام لگا رہا ہے۔ یہاں آکر دونوں کے مفادات میں تضاد آ جاتا ہے۔ جرگے کے کامیاب نہ ہو سکنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ سرحد کے دونوں جانب آباد قبائل محکوم ہیں اور ان کے فیصلے پر عملدر آمد نہیں ہوگا۔ ایک اور مشکل یہ ہے کہ جرگہ پاکستان اور افغانستان کی نہیں بلکہ واشنگٹن کی اجازت کے تحت ہورہا ہے جو فیصلہ کرنے میں آزاد نہیں ہوگا۔ |
اسی بارے میں اسلامی حکومت قبول نہ تھی: ضعیف05 February, 2007 | پاکستان طالبان کے ساتھ ایک سفر25 October, 2006 | آس پاس طالبان کو شکست ہو گی: رمزفیلڈ11 July, 2006 | آس پاس کابل میں طالبان کا خوف 27 September, 2006 | آس پاس طالبان: نیٹو کی نئی حکمت عملی10 January, 2007 | آس پاس گوانتاناموبے: جیل کےشب و روز31 December, 2006 | پاکستان ’باڑ لگانے کا فیصلہ مضحکہ خیز‘08 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||