گوانتاناموبے: جیل کےشب و روز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’امریکیوں نے مجھے مارا پیٹا اور بے لباس کر دیا مگر اسلام کے یہ محافظ میرے سابق دوست (پاکستانی حکام) یہ تماشہ دیکھتے رہے۔ ان کی زبان پر لگے تالے میرے لیے ناقابل فراموش ہیں۔ یہ وہ لمحات تھے جن کو میں قبر میں بھی نہیں بھول سکوں گا۔ وہ اتنا تو کہہ سکتے تھے کہ یہ ہمارے مہمان ہیں، ہماری موجودگی میں ان کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا جائے۔‘ یہ اقتباس ہے پاکستان میں طالبان دور حکومت کے آخری افغان سفیر مُلا عبدالسلام ضعیف کی گوانتانامو جیل کی یاداشتوں پر مشتمل کتاب سے جس کا اردو ترجمہ پاکستان میں حالیہ دنوں میں شائع ہوگیا ہے۔ ’امریکی قیدخانہ گوانتاناموبے کی کہانی مُلا ضعیف کی زبانی‘ نامی یہ کتاب محض چھیانوے صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب بظاہر ان کی پشتو میں لکھی جانے والی ایک سو چھپن صفحات پر مشتمل کتاب کے محض چند حصوں کا ترجمہ دکھائی دیتی ہے۔
اس ترجمے اور تلخیص کی ذمہ داری مولانا رافع القدر نے ادا کی ہے جبکہ اسے کتاب دوست پبلیکیشنز، لاہور نے شائع کیا ہے۔ اس سے قبل چند پاکستانی اردو اخبارات میں اس کا ترجمہ شائع ہوچکاہے۔ مُلا ضعیف بگرام، قندہار اور گوانتانامو جیل میں تقریباً چار سال گزارنے کے بعد سن دو ہزار پانچ میں رہا ہوئے تھے۔ انہیں جنوری سن دو ہزار دو میں پاکستانی حکام نے اسلام آباد سے حراست میں لےکر امریکی حکام کے حوالے کیا تھا۔ سابق افغان سفیر کو افغانستان پر امریکی حملے کے دوران اسلام آباد میں عالمی ذرائع ابلاغ کو روزانہ بریفنگ دینے سے بہت شہرت ملی تھی۔ ان کی سادگی اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی کافی متاثر کن تھی اور عالمی میڈیا کا وہ اکیلے ڈٹ کر سامنا کرتے تھے۔ اس کتاب سے قبل مُلا ضعیف کے ساتھ کیا ہوا کسی کو معلوم نہیں تھا۔ ان کی حراست کی خبر بھی کافی دنوں بعد سامنے آئی تھی۔ مکمل صورتحال اس کے بعد بھی ایک طویل عرصے تک واضح نہیں ہوسکی تھی کہ وہ پاکستانی یا امریکی تحویل میں ہیں۔ یہ کتاب ان سب سوالات کے جواب دیتی ہے۔ انہوں نے یہ کتاب گوانتانامو جیل سے رہائی پاتے وقت امریکی حکام کی خاموش رہنے کی ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے لکھی ہے۔ ضعیف نے کتاب کے بارے میں کہا ہے کہ اس کا ایک مقصد حقیقت بیان کرنا تھا۔ انہوں نے اس کتاب میں امریکہ پر تشدد اور غیرانسانی حالات میں رکھنے کا الزام لگایا ہے۔ ان کے مطابق انہیں اسیری کے ابتدائی دنوں میں کئی کئی روز تک بھوکا پیاسا رکھا جاتا، برہنہ تصاویر بنائی جاتیں، قرآن مجید کی بےحرمتی کی جاتی اور بار بار تفتیش میں اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر کے بارے میں دریافت کیا جاتا۔ صرف سو روپے کی یہ کتاب پشاور میں ستّر روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ اس کے سرورق پر ایک ہتھکڑی میں گوانتاموبے کا عکس جبکہ پشت پر ملا ضعیف کے پاکستانی صدر محمد رفیق تارڑ کو سفارتی کاغذات پیش کرنے کی تصاویر شائع کی گئی ہیں۔
کتاب میں امریکہ کے علاوہ پاکستان پر متعدد بار تنقید کی گئی ہے۔ ان کے بقول گوانتاناموبے کے قیدی پاکستان کو ’مجبورستان’ کہہ کر پکارتے تھے۔ ضعیف کے مطابق قید کے دوران انہیں امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے عوض بھاری رقم اور رہائی دینے کی پیش کشں بھی کی گئی جو انہوں نے ٹھکرا دی تھی۔ کابل میں اس کتاب کی رونمائی کے بعد ایک ہفتے کے اندر اندر اس کی سینکڑوں کاپیاں فروخت ہوئیں ہیں اور یہی حال پاکستان میں اس کے اردو ترجمے کا بھی ہے۔ چار برس کی قید کے بعد رہائی کے بدلے ان سے ایک کاغذ پر دستخط کے لیے کہا گیا جس پر لکھا تھا کہ قیدی اپنے جرم کا اقرار کرتا ہے، امریکہ سے معافی کا طلب گار ہے اور القاعدہ یا طالبان کا ساتھی تھا لیکن مستقبل میں ان سے تعلق نہیں رکھے گا جیسی شقیں درج تھیں۔البتہ سابق سفیر نے ان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جس پر امریکیوں نے انہیں اپنی مرضی کی تحریر لکھنے کو کہا۔ ملاّ ضعیف کے مطابق اس وقت انہوں نے جو لکھا وہ کچھ یوں تھا: ’میں مجرم نہیں ہوں، کبھی کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا، ایک مظلوم مسلمان ہوں جس کے ساتھ پاکستان اور امریکہ نے ظلم کیا اور چار سال قید میں رکھا ہے۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ میں امریکہ کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ نہیں لوں گا۔‘ مُلا ضعیف رہائی کے بعد سے کابل کے ایک مکان میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مقیم ہیں۔ ان کی ایک سال کی حفاظت کی ذمہ داری تو افغان حکومت نے لی ہے لیکن اس کے بعد انہیں خود نہیں معلوم کیا ہوگا۔ تقریباً اسی قسم کی باتیں گوانتاناموبے کے دو اور سابق افغان قیدیوں عبدالرحیم مسلم دوست اور ان کے چھوٹے بھائی استاد بدرالزمان بدر کی حالیہ دنوں میں آنے والی پشتو کی کتاب ’دگوانتنامو ماتی زولنیی‘ یا ’گوانتنامو کی ٹوٹی زنجیریں‘ میں بھی لکھی گئی ہیں۔ مُلا ضعیف نے اپنی کتاب میں بھی ان دو بھائیوں کا ذکر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن پاکستانی حکومت پر تنقید کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا۔ اپنی رہائی کے کچھ عرصے بعد گزشتہ ستمبر سے عبدالرحیم مسلم دوست پھر لاپتہ ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی اس گمشدگی کا الزام ایک مرتبہ پھر پاکستانی خفیہ ایجنسی کو دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کتاب میں تنقید پاکستانی حکام کو پسند نہیں آئی اس لیے ان کے بھائی کو دوبارہ حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ بھائی اپنی کتاب کا بھی جلد اردو میں ترجمہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مُلا ضعیف، عبدالرحیم مسلم دوست اور استاد بدرالزمان بدر جیسے افراد کی رہائی ان کے بقول اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بے قصور تھے۔ ان کی یاداشتیں شاید اپنی صفائی پیش کرنے اور اس اذیت ناک قید کے ذمہ دار لوگوں پر دل کی بھڑاس نکالنے کی ایک کوشش ہے۔ |
اسی بارے میں گوانتاناموبے میں بھوک ہڑتال جاری01 October, 2005 | آس پاس گوانتاناموبے: امریکہ پر تنقید14 February, 2004 | آس پاس گوانتاناموبے کے اسیروں کی شنوائی10 November, 2003 | آس پاس گوانتاناموبے:ایک قیدی کی رہائی09 September, 2004 | آس پاس ’ہم نے کوئی مذاکرات نہیں کیے‘29 June, 2005 | آس پاس ’متوکل ہم میں سے نہیں‘22 October, 2003 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||