| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’متوکل ہم میں سے نہیں‘
افغانستان میں سابق طالبان حکومت کے وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل کے بارے میں طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’وہ طالبان کی مرضی کی نمائندگی نہیں کر رہے۔‘ یہ بات طالبان کے رہنما ملا محمد عمر کے ترجمان نے منگل کو بی بی سی پشتو سروس سے بات کرتے ہوئے کہی۔ وکیل احمد متوکل کے بارے میں کئی روز سے متضاد خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ایک طرف ان کے عزیز و اقارب کہتے ہیں کہ ان کو افغانستان میں مقیم امریکی فوج نے رہا کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب کرزئی حکومت اور امریکی فوج اس بات کی تردید کرتے آرہے ہیں۔ پیر کو افغان صدر کے ترجمان جاوید لدِن نے نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ وکیل احمد متوکل کو بگرام فوجی اڈے سے رہا کر دیا گیا تھا لیکن اگلے روز ہی انہوں نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’جہاں تک ہم کو پتہ ہے ان کی رہائی نہیں ہوئی ہے اور وہ ابھی حراست میں ہیں۔‘ صدر کرزئی کے ترجمان نے بی بی سی کی فارسی سروس کو بتایا کہ ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ وکیل احمد متوکل قندھار میں ہیں یا بگرام میں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق طالبان کے سابق وزیر خارجہ قندھار کے امریکی فوجی اّڈے میں ہیں جہاں امریکی فوج ان کی حفاظت کر رہی ہے کیونکہ وکیل احمد متوکل کو خدشہ ہے کہ طالبان عناصر ان پر حملے کرنے کی کوشش کریں گے۔ بی بی سی کے رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا ہے کہ وکیل متوکل کے قریبی ساتھیوں کے مطابق امریکی فوجی حکام وکیل متوکل کو دو متربہ کرزئی حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کر چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے سابق وزیر خارجہ کو کہا گیا تھا کہ وہ یا تو کرزئی حکومت میں شامل ہو کر صدر کر زئی کے مشیر و ترجمان کی حیثیت سے کام کریں یا پھر کسی مغربی ملک میں پناہ مانگ لیں۔ امریکی حکام نے اس سلسلے میں کچھ کہنے سے گریز کیا ہے تاہم وکیل احمد متوکل کے ساتھی کہتے ہیں کہ ان کو یہ امریکی پیشکش ابھی بھی ہے لیکن وہ یا تو کسی عرب ملک میں پناہ لینا چاہیں گے یا پھر کچھ عرصے تک افغانستان میں ہی سیاست سے باہر رہنا چاہیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||