| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتاناموبے کے اسیروں کی شنوائی
امریکی سپریم کورٹ گوانتاناموبے کے اسیروں کی مقدمات کی شنوائی کے بارے میں اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ امریکی فوج کے زیر انتظام گوانتاناموبے کی جیل کے بارے میں امریکی حکومت کا موقف یہ رہا ہے کہ وہاں رکھے جانے والے ملزمان غیر قانونی جنگجو ہیں۔ امریکی حکام کا موقف یہ بھی ہے ’ اس جیل کی حدود میں غیر ملکی قیدیوں کو ان پر مبینہ جرائم کی کسی شہادت کے بغیر، غیر معینہ عرصہ کے لیے، کسی الزام کے بغیر رکھا جا سکتا ہے اور اس عرصے کے دوران انہیں اپنے خاندانوں کے افراد اور دوستوں سے ملنے، قانونی مدد حاصل کرنے اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے سے بھی روکا جا سکتا ہے۔‘ اب امریکی سپریم کورٹ ایک ذیلی عدالت کی اس رولنگ کی بھی سماعت کرے گی جس میں گوانتاناموبے کے قیدیوں کے معاملات کی سماعت کو ’دائرۂ اختیار سے باہر‘ قرار دیا گیا تھا۔ حالانکہ گوانتاناموبے میں قیدیوں کی اسیری کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ گوانتاناموبے میں چالیس ملکوں کے چھ سو پچاس شہری نظر بند ہیں اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق انہیں وہاں انتہائی غیر انسانی سلوک کا سامنا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کیونکہ وہ ان قیدیوں کو غیر قانونی جنگجو قرار دیتے ہیں اس لیے انہیں وہ تحفظ حاصل نہیں ہو سکتا جو جنگی قیدیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق سپریم کورٹ آئندہ سال کے شروع میں مقدمہ کی سماعت کا آغاز کرے گا اور جون کے اختتام تک اپنا فیصلہ سنا دے گا۔ سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی اپیلوں میں کہا گیا ہے ’ امریکہ نے گوانتاناموبے میں ایک جیل بنائی ہے جس کا تمام نظام قانون سے ماورا چلایا جا رہا ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||