’باڑ لگانے کا فیصلہ مضحکہ خیز‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کے ایک ترجمان نے پاکستان کی طرف سے افغانستان سے ملحقہ سرحد پر خاردار تار لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد حنیف کا کہنا تھا ’پاکستان کی اسی ہزار فوج اگر سرحد پار دہشت گردی نہیں روک پائی تو باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘۔ سرحد پر باڑ لگانے کے عمل کو ’کافرانہ‘ سازش قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر حنیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اس اقدام سے سرحد کے دونوں طرف رہنے والے عوام منقسم ہو جائیں گے۔ انہوں نے اس الزام کو بھی رد کیا کہ طالبان جنگجو پاکستان کی سرحد عبور کر کے افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔
ڈاکٹر حنیف کا اصرار تھا کہ غیر ملکی اور افغان افواج کے خلاف مزاحمت افغانستان کی اندر سے ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار شدت پسندی اور دہشت گردی کے الزامات صرف پروپیگنڈہ ہے، جس کا مقصد بقول ان کے طالبان کی افغانستان میں ’غاصب‘ افواج کے خلاف جاری مزاحمت کو روکنا ہے۔ واضع رہے کہ حکومت پاکستان نے حال ہی میں پاک افغان سرحد پر شدت پسندی روکنے کے لیے مخصوص مقامات پر باڑ اور باردوی سرنگیں بچھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم افغانستان میں صدر حامد کرزئی کی حکومت اور اس کے مخالف طالبان دونوں پاکستان کے اس اقدام کی مخالفت کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں پاک، افغانستان اپنے اپنے موقف پر قائم05 January, 2007 | پاکستان پاکستان کا باڑ لگانے پر اصرار05 January, 2007 | پاکستان باڑ، بارودی سرنگ، ملا جلا ردِعمل27 December, 2006 | پاکستان بارودی سرنگیں بچھانے کی مخالفت26 December, 2006 | پاکستان افغان سرحد پر دس افراد گرفتار19 December, 2006 | پاکستان افغان پاک تو تو میں میں16 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||