BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 July, 2006, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: چار سال میں ساٹھ ’ونی‘

آنکھ
ونی کی مجبوری غربت کے ساتھ بڑھ جاتی ہے
ایک غیرسرکاری ادارے ایتنو میڈیا نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ صوبہ سرحد کے دو اضلاع میں گزشتہ چار سالوں کے دوران تقریباً ساٹھ کمسن لڑکیاں ونی کی رسم کی بھینٹ چڑھی ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق کمسن بچیوں کو ونی کرنے کے واقعات میں پہلے کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔ ایتنو میڈیا نامی یہ تنظیم سورہ کی رسم پر تحقیق اور اس رسم کے خلاف عورتوں میں شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔


صوبہ سرحد کے ضلع مردان اور صوابی میں سوارہ یا ونی کی تحقیقاتی رپورٹ کے بارے میں ایتنو میڈیا کی سربراہ ثمر من اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ تین ماہ کی تحقیق کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ گزشتہ چار سال میں ساٹھ کے قریب کمسن بچیاں ونی ہوئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’ان ساٹھ بچیوں میں سے زیادہ تر کو جرگے نے قتل اور عزت کے نام پر جرائم میں مخالف فریق کے نقصان کی تلافی کی خاطر سوارہ میں دیا ہے۔ کچھ بچیاں پانی کی تقسیم اور جائیداد کی معاملات کو سلجھانے میں سوارہ کی بھینٹ چڑھی ہیں‘۔

ثمر من اللہ نے بتایا کہ انکی تحقیق کے مطابق ان دونوں اضلاع میں تقریبا ستر فیصد لوگ انصاف کی حصول کی خاطر جرگے سے رجوع کرتے ہیں کیونکہ لوگوں کے بقول انہیں عدالتوں کی بجائے جرگے میں فوری اور سستی انصاف ملتا ہے۔

بچیاں
ان مسائل کی وجہ سے آج بھی لڑکی کی پیدائش پر والدین پریشان ہوتے ہیں

ثمر من اللہ کا مزید کہنا ہے کہ ونی کی بھینٹ چڑھنے والی زیادہ تر نابالغ بچیوں کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے جن کے والدین کے پاس نقصان کے ازالے کے لیئے نقد رقم نہیں ہوتی لہٰذا وہ اپنی بچیوں کو قربان کردیتے ہیں۔ ان کے بقول رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئي ہے کہ بعض لوگ اپنی بچیاں ونی نہیں کرنا چاہتے لیکن جرگے اور سماجی دباؤ کی وجہ سے وہ یہ تلخ گھونٹ پی جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’مجھے مردان میں ایک شخص نے رازداری سے کہا کہ آج جرگے میں ان کی آٹھ سالہ بچی سوارہ میں دی جانے والی ہے لہٰذا آپ میری مدد کریں۔ میں نے خود جاکر جرگے میں شرکت کی اور اس لڑکی کو سوارہ ہونے سے بچا لیا‘۔

 مجھے مردان میں ایک شخص نے رازداری سے کہا کہ آج جرگے میں ان کی آٹھ سالہ بچی سوارہ میں دی جانے والی ہے لہٰذا آپ میری مدد کریں
ثمر من اللہ

ایتنو میڈیا کی سربراہ ثمرمن اللہ نے گزشتہ دنوں صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد میں جرگے کی طرف سے پانچ کمسن بچیوں کو ونی میں دینے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں اعلیٰ عدالت نے جرگے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

پاکستان میں مقامی جرگہ رسم کے مطابق تصفیہ کے دوران کمسن لڑکیوں کو ونی کیا جاتا ہے۔ صدیوں سے رائج سوارہ اور ونی کی رسم کو گزشتہ چند سالوں سے پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا پر زیادہ جگہ مل رہی ہے جبکہ سوِل سو سائٹی کی تنظیموں نے بھی اس رسم کیخلاف سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے۔

سالنامہاجتماعی شرمندگی
پاکستان میں خواتین کے مسائل اور مشرف کا بیان
’ونی‘ کیسے ختم ہو ؟
’ونی‘ کے حامی کم ہیں لیکن یہ ختم کیسے ہو
اقبال خان ونی رسم کے محافظ
ونی رسم: پولیس کارروائی سے کتراتی کیوں ہے؟
اسی بارے میں
ونی :سپریم کورٹ میں سماعت
24 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد