میانوالی:’ونی‘ کی دیت ادا ہوگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بچپن میں ونی قرار دی جانے والی اپنی دو بیٹیوں کو اس فرسودہ روایت کا شکار ہونے سے بچانے کے لیئے میانوالی کے علاقے داؤد خیل سے تعلق رکھنے والے امان اللہ خان نے منگل کے روز مخالف فریق کو ’دیت‘ کی رقم ادا کر دی۔ کچھ روز قبل داؤد خیل سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد پر مشتمل ایک پنچایت نے فیصلہ کیا تھا کہ امان اللہ خان اگر اپنی بیٹیوں کلثوم اور نصرت کو ونی نہیں کرنا چاہتے تو پھر وہ فریق مخالف کو دیت کے طور پر ایک لاکھ پچھہتر ہزار روپے ادا کریں۔ پنچایت کی سربراہی داؤد خیل کے موجودہ ناظم امین اللہ خان نے کی جبکہ ارکان میں سابق ناظم امیر عبداللہ خان نیازی، محمد نواز خان ناجا اور فضل دین دکاندار شامل تھے۔ امان اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے زمین اور گھر کی اشیاء بیچ کر دیت کی رقم اکٹھی کی جو وہ عید میلادالنبی کے روز ناظم امین اللہ خان کے حوالے کر آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب پنچایت کے فیصلے کی رو سے فریق مخالف ان کی بیٹیوں کو ’آزاد‘ کرنے کا اعلان کرے گا۔ امان اللہ خان نے میانوالی کی ایک مقامی عدالت سے خون بہا یا بدلہ صلح کی روایت ونی کے تحت کیئے گئے اپنی بیٹیوں کے رشتوں کے خلاف ڈگری حاصل کر رکھی تھی لیکن اس کے باوجود ان سے کوئی شادی کرنے کو تیار نہ تھا۔ حتیٰ کے ان کے سگے بھائی نے اپنے بیٹوں کے رشتے کلثوم اور نصرت کے ساتھ کرنے سے صرف اس لیئے انکار کر دیا تھا کہ جب تک فریق مخالف ’منہ سے‘ طلاق نہیں دیتا وہ یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ تاہم امان اللہ خان کی مسلسل کوششوں کے بعد پچھلے ماہ عزیز و اقارب میں سے کچھ لوگ ان کی بیٹیوں کا رشتہ لینے کے لیئے تیار ہوئے لیکن علاقے کی مسجد کے امام مولوی نور زمان نے یہ کہہ کر نکاح پڑھانے سے انکار کر دیا کہ پہلے انہیں لڑکیوں کے سابقہ نکاحوں کو فسخ قرار دینے کے حوالے سے کسی مفتی کا فتویٰ دکھایا جائے۔ لڑکیوں کے والد نے ان کے پاس پہلے سے موجود میانوالی کے جامعہ اکبریہ کے مفتی کا فتویٰ دکھایا جس کی رو سے کم سنی میں طے کیئے گئے رشتے سے لڑکی اگر بالغ ہونے پر انکار کردے تو نکاح باطل ہو جاتا ہے۔ لیکن امام مسجدنےامان اللہ خان کو میانوالی ہی کے علاقے واں بھچراں میں واقعہ جامعہ مظفریہ کے مفتی مولوی ابراہیم کا فتویٰ لانے کو کہا۔ امام مسجد کی نئی شرط پر نکاح کی تقریب عین اس وقت منسوخ کرنا پڑی جب دولہے اور دوسرے مہمان امان اللہ خان کے گھر تشریف لاچکے تھے۔امان اللہ خان کے مطابق انہوں نے لڑکے والوں سےدرخواست کی کہ وہ کسی اور نکاح خواں کا بندوبست کر لیتے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ گاؤں کے مولوی کا راضی ہونا ضروری ہے ورنہ مستقل فساد رہے گا۔ واں بچھراں کےمفتی مولوی ابراہیم نے بھی عدالت کا فیصلہ پڑھنے کے بعد ونی کی رسم کے تحت بچپن میں کیئے گئے نکاحوں کے خلاف فتویٰ دیا لیکن مولوی نور زمان نے پھر بھی نکاح پڑھانے سے انکار کر دیا۔ امان اللہ خان کے مطابق مولوی نور زمان ان کے مخالف فریق کے دباؤ میں ہیں جو لڑکیوں کو ونی کی رسم سے آزاد کرنے کے عوض ’معاوضہ‘ لینا چاہتا تھا۔ امان اللہ خان نے جائیداد کے تنازعے پر سال انیس سو پچاسی میں اپنے ایک مخالف کو قتل کر دیا تھا۔ انیس سو ستاسی میں جب وہ جیل میں تھے تو ان کے والد نے ان کی دو بیٹیوں چار سالہ کلثوم اور تین سالہ نصرت کو ونی کرنے کے عوض مخالفین سے صلح کر لی۔ امان اللہ کہتے ہیں کہ وہ اس طرح کی صلح کے خلاف تھے لیکن باپ کے فیصلے کو ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کلثوم بی اے کرنے کے بعد اب بی ایڈ کر رہی ہیں جبکہ نصرت بی اے فائنل کی طالبہ ہیں۔ ونی کے دستور کے تحت انہیں جن لڑکوں سے منسوب کیا گیا تھا وہ دونوں اب ہیروئن کے نشئی ہیں۔ دونوں بہنوں نے بالغ اور تعلیم یافتہ ہونے پر ونی ہونے سے انکار کیا تو ان کے والد امان اللہ نے بھی ان کی تائید کی۔ | اسی بارے میں ونی کے رشتے قانونی نہیں: حکومت29 November, 2005 | پاکستان بھائی کی رہائی، تین بہنیں ’ونی‘06 December, 2005 | پاکستان ’کم عمری کا نکاح ختم ہو سکتا ہے ‘06 December, 2005 | پاکستان ’ونی‘ کا حل نکالنے کی کوشش13 December, 2005 | پاکستان ونی: ’لڑکیوں کوتحفظ فراہم کریں‘16 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||