ایل ایف او: اپیل بڑے بنچ کےحوالے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے چار رکنی بنچ نے صدر جنرل پرویز مشرف کے بیک وقت دو عہدوں پر فائز رہنے اور آئین میں سترہویں ترمیم اور باوردی صدر کے قانون کےخلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی اپیل کو سماعت کے لئے سات رکنی لارجر بنچ کے سپرد کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ وکلاء کی تنظیم پاکستان لائرز فورم نے عدالت عظمی کے دو سال پہلے ہونے والے ایک فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لئے یہ درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت نے وکلاء کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا تھا کہ صدر مشرف نہ تو بیک وقت دو عہدے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی باوردی فرد ملک کا صدر بن سکتا ہے۔ آئین میں سترہویں ترمیم کو بھی اصل پٹیشن میں چیلنج کیا گیا تھا جس پر جسٹس ناظم حسین صدیقی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے اپنے 24 جون 2005 کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ آئینں میں ترمیم پارلیمنٹ کا حق ہے۔ اس بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر شامل تھے۔ منگل کے روز پاکستان لائرز فورم کے وکیل اے کے ڈوگر جسٹس جاوید اقبال کی زیر سربراہی چار رکنی بنچ کے روبرو پیش ہوئے۔ بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس جاوید بٹر اور جسٹس شاکر اللہ جان شامل ہیں۔
اے کے ڈوگر نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ اصل پٹیشن پر فیصلہ پانچ رکنی بنچ نے دیا تھا لہذا اس سے چھوٹا بنچ نظرثانی کی اس اپیل کی سماعت نہیں کر سکتا۔ عدالت نے اے کے ڈوگر کا مؤقف تسلیم کرتے ہوئے اس پٹیشن کو سات رکنی بنچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔ پاکستان لائرز فورم کے وکیل نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے اصل درخواست پر نظر ثانی کے علاوہ اپنی پٹیشن میں چند نئے نکات بھی شامل کیے ہیں۔ ان میں صدر مشرف کو موجودہ اسمبلیوں سے ہی دوبارہ منتخب ہونے کو کوشش سے باز رکھنے کی استدعا کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو انتخابات سے پہلے کسی ایک جماعت سے ’ڈیل‘ کی کوششوں اور ایک دوسری سیاسی جماعت کے ’ڈیفیکٹو‘ سربراہ کے طور پر کام کرنے سے بھی روکا جائے۔ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے مرکزی چیئرمین انجینئر جمیل ملک نے بھی صدر جنرل پرویز مشرف کے اسی اسمبلی سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے حق کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے اپنی آئینی پٹیشن میں استدعا کی ہے کہ عدالت اس پٹیشن پر فیصلہ آنے تک صدارتی انتخاب کے خلاف حکم امتناعی جاری کرے۔ |
اسی بارے میں وردی میں انتخاب، وزیرِ مستعفی27 August, 2007 | پاکستان واپسی کی سماعت 16 اگست کو09 August, 2007 | پاکستان صدر بش کا منصفانہ انتخابات پر زور09 August, 2007 | پاکستان صدارتی انتخابات ، کئی سوال01 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||