صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے صدرِ پاکستان کے لیے سرکاری ملازمت یا کوئی دوسرا عہدہ رکھنے کی پابندی ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یوں صدر جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کا عہدہ رکھتے ہوئے بھی صدر کا الیکشن لڑ سکیں گے۔ اس کے علاوہ وہ سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی دو سالہ مدت کے مکمل ہونے کے بھی پابند نہیں ہوں گے۔ صدارتی انتخاب کے قواعد میں ان نئی ترامیم کے بارے میں الیکشن کمیشن سیکرٹری کنور محمد دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے سال 2005 اور اس سے قبل سال 2000 میں اپنے دو فیصلوں میں قرار دیا تھا کہ آئین کی دفعہ 63 صدر کے عہدے کے لیے نہیں ہے۔ اب چونکہ صدارتی انتخاب قریب ہے تو الیکشن کمیشن کے لیے عدالتی فیصلے کے تحت قواعد میں تبدیلی کرنی لازمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے قواعد میں تبدیلی کی سمری گزشتہ ہفتے صدرِ مملکت کو بھجوا دی تھی جس کی صدر نے منظوری بھی دے دی ہے اور اس کے نتیجے میں قواعد میں ترمیم کا نوٹیفیکشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ جب ان سے صدارتی الیکشن کے شیڈیول کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس کا نو ٹیفیکیشن دو یا تین دن تک آ جائے گا لیکن حتمی تاریخ کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا کہ قواعد میں تبدیلی صرف سرکاری ملازمت سے متعلق عدم اہلیت کی شق سے متعلق ہے یا آرٹیکل تریسٹھ کی دیگر دفعات بھی صدارتی امیدواروں پر لاگو نہیں ہوتیں۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے آئینی امور کے ماہر وکیل جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا تھا کہ’اس ترمیم کے بعد کوئی پاگل اور مجرم شخص بھی پاکستان کا صدر بن سکتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر جبکہ سپریم کورٹ کا نو رکنی بنچ صدر کے عہدے اور وردی سے متعلق مختلف پٹیشنز کی سماعت پیر کو شروع کر رہا ہے، اس قسم کی تبدیلی آئین اور عدالتوں کے ساتھ صریحاً مذاق کے مترادف ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے حکومت نے الیکشن کمیشن کے قواعد میں یہ ترمیم کر کے ایک نئے آئینی بحران کا راستہ ہموار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے دو عہدوں کے علاوہ اب عدالت ہی کو اس مسئلے کا حل بھی تلاش کرنا ہوگا کیونکہ اس نوٹیفیکشن کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں ’صوبائی اسمبلی کے بغیر،صدرکاانتخاب‘30 August, 2007 | پاکستان وردی میں انتخاب کے خلاف احتجاج29 August, 2007 | پاکستان وردی میں انتخاب، وزیرِ مستعفی27 August, 2007 | پاکستان ’صدارتی انتخاب الیکشن سے پہلے‘27 April, 2007 | پاکستان ’انتخابات وقتِ مقررہ پر ہونگے‘18 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||