BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 September, 2007, 07:03 GMT 12:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل

صدر مشرف (فائل فوٹو)
اب صدر جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کا عہدہ رکھتے ہوئے صدرارتی انتخاب لڑ سکیں گے
الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے صدرِ پاکستان کے لیے سرکاری ملازمت یا کوئی دوسرا عہدہ رکھنے کی پابندی ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یوں صدر جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کا عہدہ رکھتے ہوئے بھی صدر کا الیکشن لڑ سکیں گے۔ اس کے علاوہ وہ سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی دو سالہ مدت کے مکمل ہونے کے بھی پابند نہیں ہوں گے۔


صدارتی انتخاب کے قواعد میں ان نئی ترامیم کے بارے میں الیکشن کمیشن سیکرٹری کنور محمد دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے سال 2005 اور اس سے قبل سال 2000 میں اپنے دو فیصلوں میں قرار دیا تھا کہ آئین کی دفعہ 63 صدر کے عہدے کے لیے نہیں ہے۔ اب چونکہ صدارتی انتخاب قریب ہے تو الیکشن کمیشن کے لیے عدالتی فیصلے کے تحت قواعد میں تبدیلی کرنی لازمی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے قواعد میں تبدیلی کی سمری گزشتہ ہفتے صدرِ مملکت کو بھجوا دی تھی جس کی صدر نے منظوری بھی دے دی ہے اور اس کے نتیجے میں قواعد میں ترمیم کا نوٹیفیکشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

 ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت نے الیکشن کمیشن کے قواعد میں یہ ترمیم کر کے ایک نئے آئینی بحران کا راستہ ہموار کیا ہے۔صدر کے دو عہدوں کے علاوہ اب عدالت کو اس مسئلے کا حل بھی تلاش کرنا ہوگا کیونکہ اس نوٹیفیکشن کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا
مسلم لیگ (ن) کےخواجہ آصف

جب ان سے صدارتی الیکشن کے شیڈیول کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اس کا نو ٹیفیکیشن دو یا تین دن تک آ جائے گا لیکن حتمی تاریخ کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا کہ قواعد میں تبدیلی صرف سرکاری ملازمت سے متعلق عدم اہلیت کی شق سے متعلق ہے یا آرٹیکل تریسٹھ کی دیگر دفعات بھی صدارتی امیدواروں پر لاگو نہیں ہوتیں۔

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے آئینی امور کے ماہر وکیل جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا تھا کہ’اس ترمیم کے بعد کوئی پاگل اور مجرم شخص بھی پاکستان کا صدر بن سکتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر جبکہ سپریم کورٹ کا نو رکنی بنچ صدر کے عہدے اور وردی سے متعلق مختلف پٹیشنز کی سماعت پیر کو شروع کر رہا ہے، اس قسم کی تبدیلی آئین اور عدالتوں کے ساتھ صریحاً مذاق کے مترادف ہے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے حکومت نے الیکشن کمیشن کے قواعد میں یہ ترمیم کر کے ایک نئے آئینی بحران کا راستہ ہموار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے دو عہدوں کے علاوہ اب عدالت ہی کو اس مسئلے کا حل بھی تلاش کرنا ہوگا کیونکہ اس نوٹیفیکشن کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

مشرف اور پرویز الہٰیوردی مخالِف دھڑا
’مشرف کی مشکلات کا حل ڈیل میں‘
صدر مشرفوردی اور انتخاب
پہلے صدرارتی انتخاب پھر وردی کی بات
صدر پرویز مشرف’وردی میری کھال‘
’فوجی وردی پہننے میں فخر محسوس ہوتا ہے‘
صدر مشرفصدارتی انتخاب
کیا ایک نئی قانونی اور آئینی جنگ کا آغاز ہوگا
صدر جنرل پرویز مشرف’با وردی انتخاب‘
وزیر قانون کے مطابق صدر با وردی رہیں گے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد