آرمی چیف کے خلاف درخواست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس رانا بھگوان داس نے متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد کی صدر جنرل پرویز مشرف کے بطور چیف آف آرمی سٹاف کام کرنے سے متعلق آئینی درخواست کو دفتری اعتراضات سمیت عدالت کے سامنے لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ رجسٹرار نے قاضی حسین احمد کی اس آئینی درخواست کو اس بنا پر لوٹا دیا تھا کہ وہ یہ درخواست دائر کرنے کا حق نہیں رکھتے ۔ قاضی حسین احمد نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے فیصلے کےخلاف اپیل دائر کی جس کی پیر کے روز جسٹس رانا بھگوان داس کے چیمبر میں ہوئی۔ قاضی حسین احمد کے وکیل شوکت عزیز صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ جسٹس رانا بھگوان داس نے اپنے حکم میں لکھا کہ صدر مشرف کی فوجی عہدے سے متعلق آئینی درخواست اور رجسٹرار سپریم کورٹ کے اس حکم کے خلاف اپیل کوعدالت کے سامنے لگا دیا جائے۔ اس درخواست کوعدالت کے سامنے پیش کرنے کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی ہے۔ قاضی حسین احمد نے اپنی آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف دس اگست 2003 کو ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اوراس کے بعد وہ اس عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے۔ قاضی حیسن احمد نے اپنی آئینی درخواست میں مزید کہاکہ وہ بطور صدر بھی اپنے عہدے پر فائز رہنے کے اہل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ صدر پاکستان وفاق کی علامت ہو تا ہے لیکن صدر جنرل پرویز مشرف ایک مخصوص سیاسی جماعت کے جلسوں میں تقریریں کرتے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں قاضی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی23 July, 2007 | پاکستان ’اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا‘17 July, 2007 | پاکستان ’قاضی قومی اسمبلی سے مستعفی‘14 July, 2007 | پاکستان فوج تعیناتی،مجلس میں اختلافات14 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||