قاضی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوائے گئے استعفیٰ میں انہوں نے کہا ہے کہ ملک کے فوجی صدر عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کو اپنے غیر آئینی اقتدار کو طول دینے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور یہ صورتحال ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ پیر کی دوپہر اخبارات کے دفاتر میں فیکس کیے گئے استعفی میں انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشنز اور کراچی کی صورتحال سمیت اہم قومی امور پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لیے جانے پر بھی تنقید کی۔ قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر پانچ، نوشہرہ سے منتخب ہونے والے قاضی حسین احمد کی جانب سے ان کے پرسنل سیکریٹری عطاء الرحمن نے یہ استعفیٰ پیر کی دوپہر ایک بجے قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسن کے سیکریٹری کے پاس جمع کروایا۔ اپنے استعفیٰ میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر عملاً غیر ملکی بالادستی مسلط کی گئی ہے۔ افواجِ پاکستان کا ادارہ اپنے سیاسی کردار کی وجہ سے نہ صرف متنازعہ ہو رہا ہے بلکہ اس کی پیشہ وارانہ صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ قاضی حسین احمد نے صدر مشرف کے ساتھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے استعفی میں کہا کہ جنرل مشرف نے ان کی جماعت اور قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ دسمبر دو ہزار چار میں فوجی سربراہ کا عہدہ چھوڑ دیں گے لیکن انہوں نے سنگین وعدہ خلافی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’اب اسی پارلیمنٹ کے ذریعے فوجی حکمرانی کو مزید دوام دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں اس ادارے میں اپنی نشست برقرار رکھنا عوام کے دیے ہوئے حق نمائندگی کے ساتھ نا انصافی ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’قاضی قومی اسمبلی سے مستعفی‘14 July, 2007 | پاکستان ’اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا‘17 July, 2007 | پاکستان قاضی حسین احمد کی نظر بندی ختم10 March, 2006 | پاکستان قاضی: الطاف حسین کے خلاف فریق13 June, 2007 | پاکستان قاضی کی درخواست پر وکلاء کا موقف23 May, 2007 | پاکستان ’پرویز مشرف ریفرنڈم کرائیں‘01 March, 2006 | پاکستان قاضی حسین بھی کراچی بدر 27 June, 2004 | پاکستان ’وردی نہ اتاری تو تحریک چلے گی‘ 11 August, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||