قاضی کی درخواست پر وکلاء کا موقف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی طرف سے جنرل مشرف کی وردی سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کیے جانے پر وکلاء اور سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ یہ درخواست جنرل مشرف کی حمایت کے مترادف ہے۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جسے سپریم کورٹ آفس نےاعتراضات لگا کر واپس کر دیا تھا لیکن قاضی حسین کے وکیل نے اس درخواست کو ایک بار پھر دائر کر دیا ہے اور اب اس درخواست کو قبول کرنے یا واپس کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ آفس نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ایک جج کریں گے۔ قاضی حسین احمد نے چند روز پہلے دائر کی جانی والی اس آئینی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ قرار دے کہ جنرل پرویز مشرف بطور چیف آف سٹاف ریٹائر ہو چکے ہیں اور وہ اس عہدے پر غیر قانونی طور پر قابض ہیں۔ قاضی حسین احمد کا موقف ہے کہ جنرل پرویز مشرف اگست دو ہزار تین میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور وہ غیر قانونی طور پر اس عہدے سے چپکے ہوئے ہیں۔ قاضی حسین احمد نے تین سال قبل صدر مشرف کے ریفرنڈم کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نےصدر پرویز مشرف کے ریفرنڈم کو جائز قرار دے دیا تھا جس کو جنرل پرویز مشرف نے ہمیشہ اپنے حق میں استعمال میں کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی کی طرف سے اس موقع پر درخواست دائر کیے جانے پر وکلاء، اور سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ یہ درخواست جنرل پرویز مشرف کے ڈگمگاتے ہوئے اقتدار کو ایک سنبھالا دینے کی ایک در پردہ کوشش ہے۔ وکلاء تحریک کے متحرک رہنما اور جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر اس طرح کی آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرنے کے بڑے خطرناک نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ وکلاء تنظمیوں کا موقف رہا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ آزاد نہیں ہے اور اس کے سامنے آئینی نوعیت کے معاملات کو نہیں لایا جانا چاہیے۔ حامد خان نے کہا کہ اس درخواست کو اگر دو ججوں کے سامنے لگا کر اسے رد کر دیا گیا تو اس کے بڑے ہی خطرناک نتائج ہوں گے۔ وکلاء تحریک کے ایک اور سرگرم رکن اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے وکیل توفیق آصف کا کہنا ہے کہ اس درخواست کو دائر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عدالت حکم جاری کرے کہ جو ’اجنبی‘ شخص چیف آف آرمی سٹاف اور صدر کے عہدے پرقابض ہو کر بیٹھا ہوا اسے ہٹایا جائے اور وکلاء کی تحریک کا مقصد ملک میں آئین اور قانون کی مکمل بالا دستی ہے۔ وکلاء تحریک اور کارکن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی کے عہدیدار اکرام چودھری کا کہنا ہے کہ یہ درخواست ملک کے فوجی حکمران کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اس طرح کی درخواستوں کو عدالت میں نہیں لانا چاہیے اور وکلاء اور عوام کی طرف سے حکمرانوں پر بنائےگئے پریشر کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے صدر انجنیئر جمیل ملک کا کہنا ہے اس وقت جو ایشوز ہیں ان پر بولنا چاہیے۔انہوں نے کہا تھا کہ جماعت اسلامی اور دوسری مذہبی جماعتوں نے ہمیشہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا ہے۔ انجنئیر جمیل کے خیال میں مذہبی جماعتیں بظاہر ملٹری کی مخالفت کرتے رہتی ہیں لیکن جب وقت آتا ہے تو یہ ان کا ساتھ دیتے ہیں ابھی بھی درپردہ یہی ہو رہا ہے۔ |
اسی بارے میں فوجی وردی میری کھال ہے: مشرف22 May, 2007 | پاکستان صدر مشرف کے انٹرویو کے اہم حصے22 May, 2007 | پاکستان ایم کیو ایم سے تعلق نہیں: مشرف18 May, 2007 | پاکستان جنرل مشرف عوامی کٹہرے میں16 May, 2007 | پاکستان ’آزادعدلیہ چاہیےتو سیاست بند کرو‘12 May, 2007 | پاکستان صدر کے جلسوں میں تیزی10 May, 2007 | پاکستان رب جانے یا مشرف09 May, 2007 | پاکستان بے نظیر کی ڈیل، جسٹس کا جلوس05 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||