’دغامشرف نےکی،ہم معافی کیوں مانگیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور ایم ایم اے یعنی متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ نہ تو سترہویں ترمیم کی حمایت متحدہ مجلس عمل کی غلطی تھی اور نہ ہی وہ اس پر معافی مانگیں گے۔ ادھر متحدہ مجلس عمل نے سپریم کونسل کے اجلاس کے بعد جمعہ کو ملک بھر میں بارہ مئی کے واقعات کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور قاضی حسین احمد دونوں 12 مئی کے بعد پہلی بار کراچی کے دورے پر آئے ہیں۔ بدھ کو دونوں رہنماؤں نے کراچی بار سے خطاب کیا اور 12 مئی کے واقعات کا ذمہ دار ملک کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کو قرار دیا۔ قاضی حسین احمد نے 12 مئی کو کراچی میں ہونے والے کشت و خون کے بعد جنرل مشرف کے فوجی اقتدار اور اقدامات کو قانونی حیثیت دینے کا سبب بننے والی سترہویں ترمیم کی حمایت کرنے پر قوم سے معافی مانگی تھی۔ مولانا فضل الرحمن سے بھی ان کے خطاب کے دوران وکلاء نے مجلس عمل کی اس غلطی پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جس پر انہوں نے کہا کہ ’ہم نے تو سترہویں ترمیم کی حمایت کر کے مشرف کو 31 دسمبر 2004ء کو وردی اتارنے کا پابند کر دیا تھا، دغا تو مشرف نے کی، ہم کیوں معافی مانگیں؟‘
انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی دوسری جماعتیں بھی 17 ویں ترمیم کی منظوری کی ذمہ دار ہیں کیونکہ جب اس ترمیم کی منظوری سے اسمبلی میں ایل ایف او پر بحث ہورہی تھی تو انہوں نے اس کے مضمرات کی نشاندہی نہیں کی۔ اگر وہ ایسا کرتیں تو ایم ایم اے اس معاملے پرکوئی سودے بازی نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے ملک کے آئین کی کسی ایک چھوٹی سی شق پر اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں کوئی بات طے ہوتی ہے تو اسے تو جرم کہا جاتا ہے لیکن پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا ہے، جس کا آئین کہتا ہے کہ تمام قوانین قرآن و سنت کے مطابق بنیں گے لیکن اس سے احتراز کیا جارہا ہے اور اسکے خلاف قانون سازی ہورہی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’ہمارے ملک کی ایک جماعت ان کا ساتھ دے رہی ہے جو کہ بہت بڑا جرم ہے، جس پر اسے توبہ بھی کرنی چاہیے اور قوم سے معافی بھی مانگنی چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ دراصل امریکہ نے اپنے مفادات کے لیے فرضی عنوان کے تحت شروع کی ہے جس کا مقصد امریکی مفادات کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے بہانے امریکہ جنرل مشرف سمیت بادشاہوں اور فوجی آمروں کی سرپرستی کررہا ہے۔انہوں نے پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بے نظیر بھٹو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں مشرف حکومت کے اقدامات کی حمایت کرتی ہیں جو حزب اختلاف کا طریقہ نہیں ہے۔ قاضی حسین احمد نے اپنے خطاب میں 12 مئی کے سانحے کی تمام تر ذمہ داری جنرل مشرف اور ان کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پر عائد کی۔ انہوں نے مشرف کو ایم کیو ایم کا سرپرست قرار دیا اور کہا کہ الطاف حسین عوامی حمایت سے محروم ہیں اور صرف مشرف کی سرپرستی کی بناء پر انہیں تحفظ حاصل ہے۔
جنرل مشرف نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ وردی ان کی کھال ہے۔ اس پر قاضی حسین احمد نے کڑی تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ ’یہ کہتے ہیں کہ وردی میری کھال ہے تو کیا کھال کوئی اپنی مرضی سے اتارتا ہے؟ مشرف 17 ویں ترمیم کی بناء پر نہیں بلکہ بندوق کے زور پر برسراقتدار ہے ورنہ کس قانون، کس آئین اور کس ضابطے کے تحت یہ کہہ سکتا ہے کہ وردی میری کھال ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے عہدے کی مدت تین سال ہے لیکن جنرل مشرف 10سالوں سے اس عہدے پر فائز ہیں اور خود ہی اپنی مدت ملازمت میں توسیع کر رہے ہیں۔ ان کی عمر 64 سال ہوچکی ہے اور وہ کسی قانون کے تحت اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ’جنرل مشرف کے پاس بندوق ہماری امانت ہے، اس امانت میں اس نے خیانت کی ہے اور جو جھوٹا ہے اور جو امین نہیں ہے وہ صدر نہیں رہ سکتا۔‘ قاضی حسین احمد نے کہا کہ تمام مسائل عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اب عدلیہ اقتدار پر کنٹرول کے معاملات میں نظریۂ ضرورت کی دلیل نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پوری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ’قوم کو فوجی آمریت سے نجات دلائے۔‘ متحدہ مجلس عمل نے جمعہ کو ملک بھر میں بارہ مئی کے واقعات کے خلاف احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے۔احتجاج کا فیصلہ کراچی میں متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بارہ مئی کے واقعات کو فرقیورانہ اور لسانی تصادم بننے نہیں دیں گے اور ان عناصر کو بے نقاب کریں گے ۔ ایم ایم اے کے صدر قاضی حسین احمد نے پیپلز پارٹی سے دوبارہ درخواست کی کہ وہ 25 مئی کو فوجی آمریت کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں کے وسیع تر اتحاد کی تشکیل کے لیے ایم ایم اے کی جانب سے بلائی گئی قومی مجلس مشاورت میں شرکت کرے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 25 مئی کو فوجی آمریت کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں، وکلاء اور سول سوسائٹی کے وسیع تر اتحاد کی تشکیل کے لیے ایم ایم اے کی جانب سے بلائی گئی قومی مجلس مشاورت میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہے اس طرح پی پی خود کو تنہا کر رہی ہے۔ انہوں نے پی پی کی قیادت سے دوبارہ درخواست کی کہ وہ قومی مجلس مشاورت میں شریک ہوکر فوجی آمریت کے خلاف پوری قوم کی تحریک میں شامل ہو۔ |
اسی بارے میں وکلاء نےزبردستی کی: پولیس18 May, 2007 | پاکستان سینیٹ کی کارروائی پِھر ٹھپ18 May, 2007 | پاکستان وکلاء پر ’تشدد‘، تفتیش رک گئی19 May, 2007 | پاکستان ’تسلی نہیں تو بات چیت بھی نہیں‘21 May, 2007 | پاکستان تنظیمیں فائرنگ کا نوٹس لیں: متحدہ21 May, 2007 | پاکستان ’ہڑتال تو ہو گی، فیصلہ جمعہ کو‘ 21 May, 2007 | پاکستان قوم پرستوں کی ہڑتال کی حمایت23 May, 2007 | پاکستان کراچی کی روشنیاں لوٹادی جائیں:اسفندیارولی 23 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||