BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 September, 2007, 10:45 GMT 15:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے عہدے، سماعت پیر سے

شریف الدین پیرزادہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ صدر کے عہدے کی معیاد پندرہ نومبر کو ختم ہورہی ہے
سپریم کورٹ نے صدر کے دو عہدوں سے متعلق چھ مختلف پٹیشنوں کو یکجا کر دیا ہے جن کی باقائدہ سماعت پیر سے ایک نو رکنی بینچ کرے گا۔

ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک نورکنی بینچ کرے گا جس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری شامل نہیں ہوں گے۔

جسٹس افتخار محمد چودھری سپریم کورٹ کے اس بینچ میں شامل تھے جس نے دو ہزار پانچ میں ان آئینی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا جن میں پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

مختلف اوقات میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں حالیہ پٹیشنز میں قاضی حسین احمد، جماعت اسلامی، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی پٹیشنز شامل ہیں۔

ان درخواستوں میں صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے، سترہویں ترمیم اور آئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے وردی میں حصہ لینے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک نورکنی بینچ کرے گا۔ اس بینچ میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس چوہدری محمد اعجاز شامل ہیں۔

جماعت اسلامی کی طرف سے دائر کی جانے والی پٹیشن کی گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے تین سینئر وکلاء اعتزاز احسن، ایس ایم ظفر اور عبدالحفیظ پیرزادہ کو ان پٹیشنز کی سماعت میں عدالت کی معاونت کے لیے کہا ہے۔

سرکاری ملازمین اور انتخانات
 اگر صدر جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کے عہدے پر رہ کر آئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں تو دوسرے سرکاری ملازمین کو بھی ملازمت میں رہ کر انتخانات لڑنے کی اجازت دی جائے

جماعت اسلامی نے اپنی پٹیشن میں کہا ہے کہ حکومت نے پرویز مشرف کے نام سے ترمیم کی ہے جبکہ یہ سہولت آرمی چیف کو دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ صدارتی انتخابات میں آئین کی دفعہ دو سو چوالیس کا مکمل اطلاق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صدر وردی یا وردی کےبغیر صدارتی انتـخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔

ڈاکٹر انوار الحق اور انجینئر جمیل نے اپنی درخواستوں میں موقف اختیار کیا ہے کہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کے عہدے پر رہ کر آئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں تو دوسرے سرکاری ملازمین کو بھی ملازمت میں رہ کر انتخانات لڑنے کی اجازت دی جائے۔آئین کے مطابق کوئی بھی سرکاری ملازم دوران ملازمت انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم نے جماعت اسلامی کی پیٹشن کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ آئین میں دو عہدے رکھنے کی گنجائش ہے اور پرویز مشرف صدر کے ساتھ آرمی چیف کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے اس تاثر سے انکار کیا کہ صدر کے دو عہدے رکھنے کا قانون امتیازی ہے اور اس سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کسی ایک شخص کے لئے بھی ترامیم کی اجازت دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس پٹتشن کو سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا تو اس سے آئندہ ہونے والے صدارتی اور عام انتخابات متاثر ہوسکتے ہیں۔

 سپریم کورٹ نے اپریل دو ہزار پانچ میں سپریم کورٹ نے ان تمام آئینی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہےجن میں پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے کو چیلنج کیا گیا تھا

صدر کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ صدر کے عہدے کی میعاد پندرہ نومبر کو ختم ہورہی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپریل دو ہزار پانچ میں سپریم کورٹ نے ان تمام آئینی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا جن میں پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئینی درخواستوں پر اپنے مختصر فیصلے میں ان تمام پیٹیشنوں کو مسترد کر دیا تھا۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ مداخلت کرکے مستقبل میں فوج کی حکومت کا راستہ روکے اور حکومت کی طرف سے اعلی عدالتوں کے ججوں کی تقرری حکومت کی مداخلت کو غیر آئنیی قرار دے۔

وکلاء کی تنظیم پاکستان لائرز فورم نے عدالت عظمی کے دو سال پہلے ہونے والے ایک فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لئے بھی عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

 بینظیر بھٹو’کوئی مقابلہ نہیں‘
نواز شریف اور میرا ایک ہی راستہ ہے: بینظیر بھٹو
بےنظیر اور مشرف’آمروں کے ساتھ رقص‘
مشرف سے ڈیل یا شیر پر سواری، نتیجہ کیا ہوگا؟
مشرف پر سیاسی دباؤ
جنرل مشرف پر (ق) لیگ کے خدشات اور تحفظات
اسی بارے میں
’پہلے جیسا صدر نہیں رہا‘
13 August, 2007 | پاکستان
پہلے انتخاب پھر وردی: مشرف
06 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد