ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | جنرل مشرف کو (ق) لیگ کے سیاسی تحفظات کا بھی سامنا ہے |
صدر جنرل پرویز مشرف ایک جانب تو پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمت کی بات چیت میں مصروف ہیں تو دوسری جانب انہیں حکمراں مسلم لیگ کے دبے دبے خدشات اور تحفظات کو دور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ صدر آج کل دونوں جانب سے دباؤ کا شکار ہیں۔ تاہم حکمراں مسلم لیگ صدر پر اسمبلیاں توڑنے کا اختیار اور وزیر اعظم کی تیسری ٹرم کے معاملے پر لچک نہ دکھانے کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے۔ اگرچہ وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ صدر نے حکمراں جماعت کو اعتماد میں لے کر پیپلز پارٹی سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے خدشات اور تحفظات سے صدر کو آگاہ کر دیا ہے۔ ایسی مشکل سیاسی صورتحال سے دوچار صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعرات کی شب آئینی ماہرین سے صلاح مشورہ جاری رکھے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ صدر کی اسی موضوع پر آج مزید ملاقاتوں کی خبریں دے رہے ہیں لیکن صدر کے ترجمان نے اس کی تردید کی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے راشد قریشی کا کہنا تھا کہ جمعہ کو سہ پہر تک صدر نے سیاسی و آئینی ماہرین سے کوئی ملاقات نہیں کی تاہم شام میں ایسی گفتگو کے بارے میں وہ کچھ نہیں کہہ سکتے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکمراں مسلم لیگ کو بڑا اعتراض بظاہر کسی کا تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے سے متعلق آئینی ترمیم اور صدر کے اسمبلیاں توڑنے کے اختیار کے خاتمے پر ہے۔ اس کے علاوہ مبصرین کے خیال میں قائد مسلم لیگ کو یہ خدشہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی کی واپسی سے ان پر عام انتحابات کے بعد حکومت سازی کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔ مسلم لیگ کے انہی تحفظات نے نہ صرف خود اس کو بلکہ صدر کو بھی مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ البتہ صدر کی وردی کا مسلم لیگ کے بقول کوئی مسئلہ نہیں۔ چوہدری شجاعت حسین: ’وردی کا مسئلہ صدر کا اپنا مسئلہ ہے انہوں نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ اس کا فیصلہ آئین کے مطابق کریں گے۔ یہ کسی کے کہنے پر وردی نہیں اتاری جائے گی۔‘ وردی اور تیسری ٹرم کے مخالفت کے علاوہ حکمراں مسلم لیگ صدر سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار واپس لینے کے بھی خلاف دکھائی دیتی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق صدر کوشش کر رہے ہیں کہ ایک ایسا مفاہمتی معاہدہ تیار کیا جائے جو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کو قابلِ قبول ہو۔ ادھر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیر افگن نیازی کے بقول انہوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس سات یا آٹھ ستمبر سے طلب کرنے سے متعلق سمری وزیراعظم کو بھیج دی ہے۔ پیپلز پارٹی سے مفاہمت کی صورت میں خیال ہے کہ یہ اجلاس آئینی ترامیم کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ادھر مسلم لیگ (ق) نے بظاہر صدر کی انتخابی مہم کے سلسلے میں آج اکثر قومی اخبارات میں آدھے صفحے کا رنگین اشتہار شائع کیا ہے۔ اس اشتہار میں سویلین لباس میں صدر جنرل پرویز مشرف کی بڑی سی تصویر کے ساتھ ’صداقت اور اعتماد‘ کی مختصر سی عبارت درج ہے۔ |