BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 September, 2007, 07:21 GMT 12:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کا تحریری بیان، اخبارات کی سرخیاں

News image
 اخبارات نے سپریم کورٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف کے وردی اتارنے کے بارے میں تحریری بیان کو شہ سرخیوں کا موضوع بنایا ہے
پاکستان کے تمام اخبارات نے سپریم کورٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف کے وردی اتارنے کے بارے میں تحریری بیان کو شہ سرخیوں کا موضوع بنایا ہے جبکہ اداریوں اور کالم میں تحریری بیان پر بظاہر نکتہ چینی کی گئی ہے۔

’روزنامہ جنگ‘ کی سرخی ہے: ’دوبارہ منتخب ہونے کے بعد صدر پرویز آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے‘۔ صدر مشرف کے تحریری بیان پر حزب مخالف کی جماعتوں کے ردعمل کو ’جنگ‘ نے سُپر لیڈ بنایا ہے: ’پہلے بھی وعدہ پورا نہیں کیا، صدر کا بیان دھوکہ ہے، مجلس عمل، انتخاب غیر آئینی و غیر قانونی ہوگا، پیپلز پارٹی ‘۔

’نوائے وقت‘ کے الفاظ ہیں: ’مشرف صدر منتخب ہوگئے تو حلف سے پہلے وردی اتار دیں گے، صدارتی وکیل‘۔

’روزنامہ ایکسپریس‘نے اسی خبر کو یوں شائع کیا ہے: ’دوبارہ منتخب ہوا تو وردی اتار دوں گا، صدر مشرف سپریم کورٹ سے وعدہ‘۔

اسی خبر کوانگریزی روزنامہ ’ڈان‘ نے اس انداز میں شائع کیا ہے: ’اگر دوبارہ منتخب ہوا تو وردی اتار دوں گا، مشرف‘۔

’ڈیلی ٹائمز‘ نے شہ سرخی لگائی ہے: ’اگر صدر منتخب ہوئے تو مشرف آرمی چیف کے عہدے کو چھوڑدیں گے‘۔

’دی نیشن‘ نے تحریری بیان کو یوں شائع کیا: ’مشرف دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں وردی اتار دیں گے ‘۔

’ایکسپریس‘ کی سپرلیڈ ہے: ’وردی اتارنے کے لیے مشرف کا بیان دھمکی ہے، وہ پہلے وعدہ توڑ چکے ہیں، اپوزیشن‘۔

’نوائے وقت‘ نے حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے بیان کو اپنی سپر لیڈ بنایا ہے: ’مشرف منتخب نہ ہوسکے تو اسمبلیاں معطل کردی جائیں گی، شجاعت، آرمی ہاؤس میں اجلاس، آئینی رکاوٹ پر صدارتی الیکشن ملتوی کرنے سمیت دیگر آپشنز پر غور‘۔

حزب اختلاف کے ردعمل کی خبر کو’نوائے وقت‘ نے تین کالم میں یوں شائع کیا ہے: ’ مشرف وردی یا بغیر وردی قبول نہیں، اپوزیشن۔ بیان غیر آئینی و غیر جمہوری ہے: پیپلز پارٹی۔ اعلان نہیں یونیفارم اتاریں: وکلاء رہنماء‘۔

فائل فوٹو
 صدر کے وکیل کے بیان سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری ملازم پر ریٹائرمنٹ کے دو برس تک سیاسی عہدہ قبول کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے
اخبار ڈان
روزنامہ ’جنگ‘ کے صفحہ اول پر تجزیاتی خبر ہے کہ ’ کنگز پارٹی کی کارکردگی پر عدم اعتماد واضح، وردی میں انتخاب لڑنے کا فیصلہ ناکامی کے خوف سے کیا گیا‘۔ اسی اخبار میں اٹارنی جنرل پاکستان ملک محمد قیوم کا بیان شائع کیا ہے کہ ’احمد رضا قصوری کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جا سکتی ہے، اٹارنی جنرل‘۔

’دی نیشن‘ نے حزب مخالف کے رد عمل کی اشاعت کے لیے ان الفاظ کا انتخاب کیا: ’اپوزیشن نے صدر کے وردی اتارنے کے طریق کار کو مسترد کردیا‘ جبکہ ’دی نیوز‘ نے اس خبر کو یوں شائع کیا کہ ’پیرزادہ کا بیان ایک دھمکی ہے، اپوزیشن‘۔

’روزنامہ ایکسپریس‘ میں ایک کالم میں لکھا ہے کہ ’سپریم کورٹ میں داخل کیے جانے والے تحریری بیان کے مطابق اگر جنرل مشرف دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوگئے تو صدارت کا حلف اٹھانے سے پہلے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے، یہ بیان شریف الدین پیرزادہ نے داخل کیا ہے۔ حیرت ہے کہ قانون اور آئین کا بےمثال جادوگر ہونے کے باوجود انہوں نے ایک طے شدہ حقیقت پر ’اگر‘ کا سایہ ڈال دیا۔ ممکن ہے کہ اس سے یہ بتانا مقصود ہو کہ مجھے منتخب کرو ورنہ میں وردی میں تو موجود ہوں ہی‘۔

 موجودہ ملکی اور عالمی حالات کا تقاضہ ہے کہ عدالتی فیصلے کا انتظار کیے بغیر صدر جنرل مشرف صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لینے کا واضح اور دو ٹوک اعلان کریں اور ایک متفقہ عبوری حکومت کی نگرانی میں عام انتخابات کرانے کا وعدہ پورا کریں
نوائے وقت کا اداریہ

اخبار ’ڈان‘ نے صدرمشرف کے وردی اتارنے کے بارے میں تحریری بیاں پر اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ’تحریری بیان کے باوجود کئی معاملات پر ابہام ختم نہیں ہوا ہے‘۔ اخبار کہتا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے روبرو پیش کردہ تحریری بیان سے یہ بات واضح نہیں ہوتی ہے کہ صدر ان ہی اسمبلیوں سے منتخب ہوں گے یا اس سال ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی اسمبلی سے ووٹ لیں گے‘۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ ’صدر کے وکیل کے بیان سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری ملازم پر ریٹائرمنٹ کے دو برس تک سیاسی عہدہ قبول کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے‘۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے عوام خالص اور اصلی جمہوریت چاہتے ہیں‘۔

نوائے وقت کے اداریے کا عنوان ہے: ’وردی اتارنے کی ایک اور یقین دہانی اور زمینی حقائق‘۔ اخبار لکھتا ہے کہ ’موجودہ ملکی اور عالمی حالات کا تقاضہ ہے کہ عدالتی فیصلے کا انتظار کیے بغیر صدر جنرل مشرف صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لینے کا واضح اور دو ٹوک اعلان کریں اور ایک متفقہ عبوری حکومت کی نگرانی میں عام انتخابات کرانے کا وعدہ پورا کریں‘۔

اخبار کہتا ہے کہ ’صدر جنرل پرویز مشرف نے ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ بلند کیا تھا۔ اب وہ اپنے اس نعرے کی لاج رکھیں اور اپنی ذات کو درمیان میں نہ آنے دیں جس سے مخالفین کو خواہ مخواہ بدگمانی اور شکوک و شہبات پھیلانے کا موقع ملتا ہے‘۔

مشرف اور پرویز الہٰیوردی مخالِف دھڑا
’مشرف کی مشکلات کا حل ڈیل میں‘
صدر پرویز مشرف’وردی میری کھال‘
’فوجی وردی پہننے میں فخر محسوس ہوتا ہے‘
اسی بارے میں
پہلے انتخاب پھر وردی: مشرف
06 August, 2007 | پاکستان
صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی
18 September, 2007 | پاکستان
باوردی صدر: سماعت پانچ کو
03 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد