صدر کا تحریری بیان، اخبارات کی سرخیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’روزنامہ جنگ‘ کی سرخی ہے: ’دوبارہ منتخب ہونے کے بعد صدر پرویز آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے‘۔ صدر مشرف کے تحریری بیان پر حزب مخالف کی جماعتوں کے ردعمل کو ’جنگ‘ نے سُپر لیڈ بنایا ہے: ’پہلے بھی وعدہ پورا نہیں کیا، صدر کا بیان دھوکہ ہے، مجلس عمل، انتخاب غیر آئینی و غیر قانونی ہوگا، پیپلز پارٹی ‘۔ ’نوائے وقت‘ کے الفاظ ہیں: ’مشرف صدر منتخب ہوگئے تو حلف سے پہلے وردی اتار دیں گے، صدارتی وکیل‘۔ ’روزنامہ ایکسپریس‘نے اسی خبر کو یوں شائع کیا ہے: ’دوبارہ منتخب ہوا تو وردی اتار دوں گا، صدر مشرف سپریم کورٹ سے وعدہ‘۔ اسی خبر کوانگریزی روزنامہ ’ڈان‘ نے اس انداز میں شائع کیا ہے: ’اگر دوبارہ منتخب ہوا تو وردی اتار دوں گا، مشرف‘۔ ’ڈیلی ٹائمز‘ نے شہ سرخی لگائی ہے: ’اگر صدر منتخب ہوئے تو مشرف آرمی چیف کے عہدے کو چھوڑدیں گے‘۔ ’دی نیشن‘ نے تحریری بیان کو یوں شائع کیا: ’مشرف دوبارہ منتخب ہونے کی صورت میں وردی اتار دیں گے ‘۔ ’ایکسپریس‘ کی سپرلیڈ ہے: ’وردی اتارنے کے لیے مشرف کا بیان دھمکی ہے، وہ پہلے وعدہ توڑ چکے ہیں، اپوزیشن‘۔ ’نوائے وقت‘ نے حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے بیان کو اپنی سپر لیڈ بنایا ہے: ’مشرف منتخب نہ ہوسکے تو اسمبلیاں معطل کردی جائیں گی، شجاعت، آرمی ہاؤس میں اجلاس، آئینی رکاوٹ پر صدارتی الیکشن ملتوی کرنے سمیت دیگر آپشنز پر غور‘۔ حزب اختلاف کے ردعمل کی خبر کو’نوائے وقت‘ نے تین کالم میں یوں شائع کیا ہے: ’ مشرف وردی یا بغیر وردی قبول نہیں، اپوزیشن۔ بیان غیر آئینی و غیر جمہوری ہے: پیپلز پارٹی۔ اعلان نہیں یونیفارم اتاریں: وکلاء رہنماء‘۔
’دی نیشن‘ نے حزب مخالف کے رد عمل کی اشاعت کے لیے ان الفاظ کا انتخاب کیا: ’اپوزیشن نے صدر کے وردی اتارنے کے طریق کار کو مسترد کردیا‘ جبکہ ’دی نیوز‘ نے اس خبر کو یوں شائع کیا کہ ’پیرزادہ کا بیان ایک دھمکی ہے، اپوزیشن‘۔ ’روزنامہ ایکسپریس‘ میں ایک کالم میں لکھا ہے کہ ’سپریم کورٹ میں داخل کیے جانے والے تحریری بیان کے مطابق اگر جنرل مشرف دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوگئے تو صدارت کا حلف اٹھانے سے پہلے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے، یہ بیان شریف الدین پیرزادہ نے داخل کیا ہے۔ حیرت ہے کہ قانون اور آئین کا بےمثال جادوگر ہونے کے باوجود انہوں نے ایک طے شدہ حقیقت پر ’اگر‘ کا سایہ ڈال دیا۔ ممکن ہے کہ اس سے یہ بتانا مقصود ہو کہ مجھے منتخب کرو ورنہ میں وردی میں تو موجود ہوں ہی‘۔ اخبار ’ڈان‘ نے صدرمشرف کے وردی اتارنے کے بارے میں تحریری بیاں پر اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ’تحریری بیان کے باوجود کئی معاملات پر ابہام ختم نہیں ہوا ہے‘۔ اخبار کہتا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے روبرو پیش کردہ تحریری بیان سے یہ بات واضح نہیں ہوتی ہے کہ صدر ان ہی اسمبلیوں سے منتخب ہوں گے یا اس سال ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی اسمبلی سے ووٹ لیں گے‘۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ ’صدر کے وکیل کے بیان سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری ملازم پر ریٹائرمنٹ کے دو برس تک سیاسی عہدہ قبول کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے‘۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کے عوام خالص اور اصلی جمہوریت چاہتے ہیں‘۔ نوائے وقت کے اداریے کا عنوان ہے: ’وردی اتارنے کی ایک اور یقین دہانی اور زمینی حقائق‘۔ اخبار لکھتا ہے کہ ’موجودہ ملکی اور عالمی حالات کا تقاضہ ہے کہ عدالتی فیصلے کا انتظار کیے بغیر صدر جنرل مشرف صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لینے کا واضح اور دو ٹوک اعلان کریں اور ایک متفقہ عبوری حکومت کی نگرانی میں عام انتخابات کرانے کا وعدہ پورا کریں‘۔ اخبار کہتا ہے کہ ’صدر جنرل پرویز مشرف نے ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ بلند کیا تھا۔ اب وہ اپنے اس نعرے کی لاج رکھیں اور اپنی ذات کو درمیان میں نہ آنے دیں جس سے مخالفین کو خواہ مخواہ بدگمانی اور شکوک و شہبات پھیلانے کا موقع ملتا ہے‘۔ |
اسی بارے میں ’منتخب ہونے پر وردی اتار دوں گا‘ 18 September, 2007 | پاکستان پہلے انتخاب پھر وردی: مشرف06 August, 2007 | پاکستان صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی18 September, 2007 | پاکستان ’جمہوریت اور وردی ساتھ نہیں‘06 September, 2007 | پاکستان باوردی صدر: سماعت پانچ کو03 September, 2007 | پاکستان وردی میں انتخاب کے خلاف احتجاج29 August, 2007 | پاکستان باوردی انتخاب، مخالفت کا اعلان28 August, 2007 | پاکستان ’کسی وردی والے سے بات نہیں‘27 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||