BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 August, 2007, 20:19 GMT 01:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کسی وردی والے سے بات نہیں‘

احسن اقبال
قوم کبھی ڈیل کرنے والوں کو قبول نہیں کرے گی:احسن اقبال
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس کا حکومت سے کوئی رابطہ نہیں اور بقول ان کے وہ کسی وردی والے سے سیاست پر بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

یہ وضاحت مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے اسلام آباد میں پیر کو ایک اخباری کانفرنس میں کی۔

پاکستانی اخبارات لندن میں چند اعلی حکومتی اہلکاروں کی موجودگی کی خبروں کے ساتھ ساتھ یہ بھی قیاس کر رہے ہیں کہ ان کا مقصد پیپلز پارٹی کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے بھی مذاکرات کرنے ہیں۔

تاہم مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے اخباری کانفرنس میں جس انداز سے خطاب کیا اس سے بظاہر محسوس نہیں ہوتا تھا کہ ان کی جماعت اور صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان کسی مفاہمت کا کوئی امکان ہے۔ لیکن مبصرین کے خیال میں پاکستانی سیاست میں کبھی کوئی بات حتمی طور پر کرنا کافی مشکل ہے۔

احسن اقبال کا اصرار تھا کہ وہ فوج اور سیاست کے درمیان ایسی دیواِر چین کھڑی کرنا چاہتے ہیں جس سے فوج پھر کبھی ملکی سیاست میں دخل اندازی نہ کر سکے۔

پیپلز پارٹی کا نام نہ لیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ لندن میں موجود سرکاری و فوجی اہلکار ان لوگوں سے مذاکرات کر رہے ہیں جن سے وہ پہلے بھی ایسا کر چکے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ قوم کبھی ڈیل کرنے والوں کو قبول نہیں کرے گی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے قومی مفاہت کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف دو شرائط کی بنیاد پر ممکن ہے ایک تو بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے سے قبل کے آئین کی بحالی اور دوسرا صدر کی جانب سے کسی عہدے کے لیے کھڑے نہ ہونے کا اعلان۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سپریم کورٹ کے فیصلے کی لاج رکھنے کی خاطر رمضان سے قبل وطن واپس ضرور آئیں گے۔

ادھر مسلم لیگ کے مرکزی رہنما لندن میں انتیس اگست کو ہونے والے اس اہم اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہونا شروع ہوگئے ہیں جس میں جماعت کے مطابق نواز شریف کی واپسی کے پروگرام کو حتمی شکل دی جائے گی۔

مرکزی سیکرٹری جنرل ظفر اقبال جھگڑا چند دیگر رہنماؤں کے ساتھ پیر کو لندن روانہ ہوئے جبکہ ایک دوسرا وفد منگل کو راجہ ظفر الحق کی قیادت میں روانہ ہوگا۔ پارٹی کے مطابق صوبائی صدور کو کارکنوں کو استقبال کے لیے متحرک کرنے کی غرض سے لندن جانے سے روک دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
واپسی کا فیصلہ 29 اگست کو
25 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد