BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 August, 2007, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپسی کا فیصلہ 29 اگست کو

حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم کی رابط کمیٹی کے سربراہ بھی راجہ ظفر الحق ہیں
پاکستان مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ اس نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو جلد از جلد وطن واپس آنے کا مشورہ دیا ہے تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ انتیس اگست کو لندن میں ایک اجلاس میں کیا جائے گا۔

یہ بات جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کے سنیچر کو ہونے والے اجلاس میں طے پائی۔ اجلاس کی صدارت پارٹی کے مرکزی رہنما راجہ ظفر الحق نے کی۔

مسلم لیگ کی مرکزی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اس میں ہونے والے فیصلوں کے بارے میں بی بی سی کو بتاتے ہوئے جماعت کے سکریٹری جنرل ظفر اقبال جھگڑا کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے انہیں جلد از جلد وطن واپس خصوصاً رمضان سے قبل آنے کا مشورہ دیا ہے۔’اس میں بھی ہم نے دس ستمبر تک کی تاریخ تجویز کی ہے۔‘

ورکنگ کمیٹی کا یہ ہنگامی اجلاس سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر غور کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ اجلاس نے سپریم کورٹ کو اس تاریخی فیصلے پر خراج تحسین پیش کیا۔ ’ملک میں پہلی مرتبہ محسوس ہو رہا ہے کہ عدالت آزادانہ فیصلے دے رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی نے اس برس کے اوائل میں نواز شریف کو کہا تھا کہ کمیٹی کے اشارے تک وہ وطن واپس نہ آئیں لیکن اب وہ وقت آگیا ہے کہ ان کی واپسی ہوسکتی ہے۔

آج کے اجلاس میں لندن میں انتیس اگست کو نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات کے لیئے رہنماؤں کا ایک وفد تشکیل دیا ہے جو کہ واپسی سے متعلق پروگرام کو حمتی شکل دے گا۔

ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں واپسی کی تاریخ اور مقام کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر صوبے کے پارٹی کارکنوں کی خواہش تھی کہ وہ ان کے صوبے آئیں لیکن یہ فیصلہ بہرحال لندن میں ہوگا۔

اجلاس میں جاوید ہاشمی کے بھائی کی موت پر افسوس اور دعاے مغفرت بھی کی گئی۔

جماعت نے صدر جنرل پرویز مشرف کے وردی میں صدر منتخب ہونے کے فیصلے کو آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے فورم سے چیلنج کیا جائے گا۔

مجلس عاملہ کا اجلاس تقریباً تین گھنٹے جاری رہا جس میں سپریم کورٹ کے نواز شریف کو واپس آنے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد کی صورتحال اور صدارتی انتخاب پر تفصیل سے غور کیا گیا۔

ادھر صدر جنرل پرویز مشرف نے راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے حکمران مسلم لیگ اور اس کے اتحادی اراکین پارلیمان سے اپنی صدارتی انتخاب کی مہم کے سلسلے میں ملاقات کی ہے۔ بعد میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بتایا کہ اراکین نے ان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد