’سیاسی مفاہمت وقت کی ضرورت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے سرکاری ٹی وی پر حال ہی میں شروع کیےگئے اپنے ہفتہ وار ٹاک شو میں ملک میں سیاسی مفاہمت اور قومی اتفاقِ رائے پر زور دیا ہے۔ صدر مشرف کا یہ موقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے کے ایک روز بعد ہی سامنے آیا ہے جس کے تحت معزول اور جلاوطن وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کے بلا رکاوٹ وطن واپسی کے (آئینی) حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اس سے قبل حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کی ممکنہ وطن واپسی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ شریف برادران کی گرفتاری سمیت تمام آپشنز کھلے ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعہ کو قانونی ماہرین کے ساتھ ایک اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور صدارتی انتخاب سے متعلق مشاورت بھی کی۔
سیاسی مبصرین کے خیال میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کی اجازت دینے کے فیصلے کی وفاقی وزارء اور قانونی ماہرین بالکل توقع نہیں کر رہے تھے جس کی وجہ سے وہ فیصلے کے بعد کوئی واضح بیان نہیں دے سکے تھے۔ لیکن اس فیصلے کے ایک روز بعد آج یعنی جمعہ کو حکومتی موقف اس کے ترجمان اور وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے صحافیوں کو بریفنگ میں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے بعد شریف بردارن کی واپسی کی صورت میں گرفتاری سمیت کئی دیگر آپشنز موجود ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عدالتی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے کسی طریقے پر حکومت کے پاس کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ انہوں نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور سے بھی انکار کیا۔ ’ملک میں برداشت اور استحکام کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔‘
راولپنڈی میں صدارتی کیمپ آفس میں منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی، اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم سمیت کئی سینئر قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ محمد علی درانی نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر کے انتخاب کا شیڈول الیکشن کمیشن آئندہ ماہ جاری کرے گا، تاہم اس بابت انہوں نے کوئی تاریخ نہیں دی۔ ملک محمد قیوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے ان سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر مشورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کو بتایا گیا کہ وہ وزیراعظم کے مشورے سے ایک صدارتی حکم کے ذریعے کسی کو سزا میں دی جانے والی رعایت ختم کرسکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’پہلے شہباز جائیں گے‘23 August, 2007 | پاکستان ’رات نہ چڑھے اور وہ واپس آجائے‘23 August, 2007 | پاکستان شریف برادران پر مقدمات کی حیثیت23 August, 2007 | پاکستان ’نواز، شہباز اب فوراً وطن پہنچیں‘24 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||