BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 August, 2007, 15:57 GMT 20:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیاسی مفاہمت وقت کی ضرورت‘

صدر مشرف
صدر مشرف ٹی وی شو میں ای میلز اور ایس ایم ایس کے ذریعے آنے والے سوالات کا جواب دیتے ہیں
صدر جنرل پرویز مشرف نے سرکاری ٹی وی پر حال ہی میں شروع کیےگئے اپنے ہفتہ وار ٹاک شو میں ملک میں سیاسی مفاہمت اور قومی اتفاقِ رائے پر زور دیا ہے۔

صدر مشرف کا یہ موقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلے کے ایک روز بعد ہی سامنے آیا ہے جس کے تحت معزول اور جلاوطن وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کے بلا رکاوٹ وطن واپسی کے (آئینی) حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔

اس سے قبل حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کی ممکنہ وطن واپسی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ شریف برادران کی گرفتاری سمیت تمام آپشنز کھلے ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعہ کو قانونی ماہرین کے ساتھ ایک اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے اور صدارتی انتخاب سے متعلق مشاورت بھی کی۔

حکومتی آپشنز
 حکومت کے پاس اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے بعد شریف بردارن کی واپسی کی صورت میں گرفتاری سمیت کئی دیگر آپشنز موجود ہیں
وفاقی وزیر اطلاعات

سیاسی مبصرین کے خیال میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کی اجازت دینے کے فیصلے کی وفاقی وزارء اور قانونی ماہرین بالکل توقع نہیں کر رہے تھے جس کی وجہ سے وہ فیصلے کے بعد کوئی واضح بیان نہیں دے سکے تھے۔

لیکن اس فیصلے کے ایک روز بعد آج یعنی جمعہ کو حکومتی موقف اس کے ترجمان اور وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے صحافیوں کو بریفنگ میں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے بعد شریف بردارن کی واپسی کی صورت میں گرفتاری سمیت کئی دیگر آپشنز موجود ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عدالتی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے کسی طریقے پر حکومت کے پاس کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ انہوں نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور سے بھی انکار کیا۔ ’ملک میں برداشت اور استحکام کے عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔‘

نواز شریف اپنی پارٹی اور سیاسی اتحادیوں سے مشورے کے بعد وطن واپسی کی تاریخ کا اعلان کرینگے

راولپنڈی میں صدارتی کیمپ آفس میں منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی، اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم سمیت کئی سینئر قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ محمد علی درانی نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر کے انتخاب کا شیڈول الیکشن کمیشن آئندہ ماہ جاری کرے گا، تاہم اس بابت انہوں نے کوئی تاریخ نہیں دی۔

ملک محمد قیوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے ان سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر مشورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کو بتایا گیا کہ وہ وزیراعظم کے مشورے سے ایک صدارتی حکم کے ذریعے کسی کو سزا میں دی جانے والی رعایت ختم کرسکتے ہیں۔

سیاست اور جرنیلی
’ وہ سیاست سیکھ جاتے تو یہ نہ کرتے‘
شریف خاندان کا رائے ونڈ فارمواپسی کا انتظار
’رات نہ چڑھے اور وہ واپس آجائے‘
ایک پوسٹرپہلے شہبازشریف
سپریم کورٹ کا فیصلہ، جاوید سومرو کا تجزیہ
سپریم کورٹ سےباہرلیگیوں کا جشن
کارکنان، رہنما، بکرے اور پیغامات
 مسلم لیگی خوشیاں مسلم لیگی جشن
عدالتی فیصلہ: خوشیاں، جشن، مٹھائیاں
کون پہلے لوٹے گا
واپسی کے فوائد اور نقصانات پرغور
اسی بارے میں
’پہلے شہباز جائیں گے‘
23 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد