BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 September, 2007, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جمہوریت اور وردی ساتھ نہیں‘

مخدوم امین فہیم
’ہم نے حکومت کو بتادیا ہے کہ وردی اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے
پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ مرکزی رہنما مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی مذاکراتی ٹیم کو اپنے حتمی مطالبات اور شرائط پیش کردی ہیں اور اب گیند حکومت کی کورٹ میں ہے۔

جمعرات کو دبئی سے فون پر بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے حکومت کو بتادیا ہے کہ وردی اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے،۔

مخدوم امین فہیم کا کہنا تھا کہ صدر کو فوجی عہدہ چھوڑنا پڑے گا اور ان سے کہا ہے کہ وہ نو منتخب اسمبلیوں سے صدارتی انتخاب لڑیں۔ ان کے بقول جس اسمبلی کی اپنی مدت پانچ برس ہے وہ کسی اور کو دس برس کے لیے کیسے منتخب کر سکتی ہے؟۔

انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے شراکت اقتدار کے لیے اپنی شرائط کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ شفاف عام انتخابات کا انعقاد یقینی بنانے کے لیے اتفاق رائے سے نگران حکومت قائم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے آزاد الیکشن کمیشن بنانے اور عام انتخابات سے قبل ضلعی حکومتوں کو معطل کرنے کے مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔

صدر مشرف کے جواب کا انتظار ہے
 اسمبلی توڑنے کا صدارتی اختیار ختم کرنے پر بھی بات ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اب انہیں صدر جنرل پرویز مشرف کے جواب کا انتظار ہے۔
مخدوم امین فہیم

مخدوم امین فہیم نے بتایا کہ اسمبلی توڑنے کا صدارتی اختیار ختم کرنے پر بھی بات ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اب انہیں صدر جنرل پرویز مشرف کے جواب کا انتظار ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کوئی ’ڈیڈ لائن، مقرر کی ہے وہ کب تک انتظار کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ’ہم نے صدر کے نمائندوں پر واضح کیا ہے کہ وقت بڑی تیزی سے نکل رہا ہے اور اگر وقت نکل گیا تو کسی کو اختیار نہیں رہے گا،۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے جواب کے بعد ان کی جماعت فیصلہ کرے گی کہ وہ رضامند ہوتی ہے یا نہیں۔ جب ان سے پوچھا کہ اگر جنرل سے بات چیت نہیں بنتی تو وہ کیا کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ عوام کے پاس جائیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ فی الحال جنرل کے پاس گئے ہیں اور بعد میں عوام کے پاس تو مخدوم امین فہیم نے کہا کہ ’ہم نے جمہوریت کی بحالی کے لیے شرائط پیش کی ہیں، کسی کے پاس ہم نہیں گئے،۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد