BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 September, 2007, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’منتخب ہونے پر وردی اتار دوں گا‘

اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر کی طرف جمع کرایا جانے والا بیان دھمکی نہیں
سپریم کورٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل دوبارہ صدر منتخب ہونے پر فوج کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

شریف الدین پیرزادہ نے یہ بات سپریم کورٹ میں داخل کردہ ایک تحریری بیان میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا ’اگر جنرل مشرف دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوگئے تو صدارت کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔‘

صدر کے وکیل نے یہ بات جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کے سامنے منگل کی صبح ان پیٹیشنز کی سماعت کے دوران کہی جن میں صدر کے دو عہدے رکھنے، آئین میں سترہویں ترمیم، اور صدر مشرف کے وردی میں رہتے ہوئے آئندہ انتخاب کو چیلنج کیا گیا ہے۔

جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ یہ بات تو اخبارات میں آچکی ہے جس پر شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ وہ یہ بات آن ریکارڈ بھی کرنا چاہتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں ان آئینی درخواستیں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔

News image
 اگر جنرل مشرف دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوگئے تو صدارت کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے

شریف الدین پیرزادہ کے بیان کے بعد جماعتِ اسلامی کے وکیل اکرم شیخ نے اپنے دلائل جارے رکھے اور کہا کہ ایک جمہوری ملک میں اس بات کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ ملک کا صدر آرمی چیف کا عہدے بھی اپنے پاس رکھے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف اور ایم ایم اے کے مابین ہونے والے معاہدے کو آئینی شکل نہیں دی گئی تھی۔

اکرم شیخ نے کہا کہ آئین کی دفعہ تریسٹھ پوری طرح لاگو ہے اور کسی شخص کو بھی اس سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صرف آئین کی دفعہ تریسٹھ (ون اے) صدر مشرف کو تحفظ دیتی ہے اور اسے بھی آئین کی روح سے متصادم ہونے کی وجہ سے ختم کر دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی موجودہ میعاد گیارہ اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے اور صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ گیارہ ستمبر کو گزر چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے دوبار حلف اُٹھا کر آئین کی اس دفعہ کو توڑا ہے۔ ایک مرتبہ تب جب انہوں نے بطور ایک فوجی سیاست میں حصہ لیا اور انہوں نے آئین کے آرٹیکل دو سو چوالیس کی خلاف ورزی کی جبکہ دوسری مرتبہ متحدہ مجلس عمل کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے میں انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر آ کر قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وہ دسمبر دو ہزار چار کے بعد یونیفارم اُتار دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے قوم سے خطاب کیا تو اُس میں سپریم کورٹ بھی آتی ہے۔

News image
 ایک جمہوری ملک میں اس بات کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ ملک کا صدر آرمی چیف کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھے
اکرم شیخ

اکرم شیخ نے اس دوران سینیٹر ایس ایم ظفر کی ایک کتاب کا بھی حوالہ دیا جس میں ایم ایم اے کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ کتابیں بینچ میں شامل ججوں کو بھی دیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے یہ کتاب دیکھ کر ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ میں نے اس کتاب میں دو اہم باتیں نوٹ کی ہے ایک اس کی قیمت زیادہ ہے اور دوسرا اس میں مصنف کی تصویریں بہت ہیں جس پر کمرہ عدالت میں ایک قہقہ بلند ہوا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ اکتالیس کے تحت ایک شخص دو مرتبہ پاکستان کا صدر رہ سکتا ہے اور جنرل پرویز مشرف دو مرتبہ پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ وہ تب صدر بنے تھے جب وہ بیس جون دو ہزار ایک میں اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کو ہٹا کر خود صدر بن گئے تھے اور دوسری مرتبہ سترہویں ترمیم کے ذریعے صدر بنے تھے، اس لیے وہ تیسری مرتبہ ملک کا صدر بننے کے لیے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کروا سکتے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان درخواستوں کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے قاضی حسین احمد اور پیپلز لائرز فورم کی درخواستوں پر ہونے والے فیصلوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک اور سینیئر وکیل حامد خان عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں کہا کہ پیر کے روز ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تھا اس کی وجہ سے اعتزاز احسن کمرہ عدالت سے چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے اعتزاز احسن کو ان مقدمات کی سماعت میں کورٹ کی معاونت کرنے کے لئے طلب کیا تھا لہذا انہیں عدالت میں واپس لایا جائے جس پر عدالت نے کہا کہ اس ضمن میں وہ پیر کو ہی احکامات جاری کرچکی ہے۔

تب آئین معطل تھا
 صدر کی پہلی مدت کی معیاد پندرہ نومبر کو ختم ہو رہی ہے کیونکہ جنرل پرویز مشرف نے سنہ دو ہزار ایک میں جب بطور صدر چارج سنبھالا تھا تو اس وقت آئین معطل تھا
اٹارنی جنرل

ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک نو رکنی بینچ کر رہا ہے۔ اس بینچ میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس شاکراللہ جان شامل ہیں۔

اکرم شیخ کے دلائل ختم ہونے کے بعد عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔

سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر اخباری نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ صدر کی طرف سے آج جو بیان عدالت میں جمع کرایا گیا ہے وہ دھمکی نہیں ہے بلکہ یہ بیان قانون کے مطابق دیا گیا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا جنرل پرویز مشرف بطور صدر دو مرتبہ اپنے عہدے کی معیاد پوری کرچکے ہیں تو انہوں نے کہا کہ صدر کی پہلی مدت کی معیاد پندرہ نومبر کو ختم ہو رہی ہے کیونکہ جنرل پرویز مشرف نے سنہ دو ہزار ایک میں جب بطور صدر چارج سنبھالا تھا تو اس وقت آئین معطل تھا۔

صدر مشرفوردی اور انتخاب
پہلے صدرارتی انتخاب پھر وردی کی بات
فائل فوٹو صدر کا انتخاب
اخبارات کی سرخیاں
جلسے کی’تیاری‘
جلسہ صدرِ مملکت کا، گاڑیاں عوام کی بند
مشرف اور پرویز الہٰیوردی مخالِف دھڑا
’مشرف کی مشکلات کا حل ڈیل میں‘
صدر مشرفصدر کے اختیارات
افسران کی ترقیوں میں قواعد کی خلاف ورزیاں
اسی بارے میں
صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل
16 September, 2007 | پاکستان
اسمبلی سے استعفے: APDM کا اعلان
16 September, 2007 | پاکستان
مشرف کے عہدے، سماعت پیر سے
14 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد