جنرل مشرف کو وکلاء کا چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء نےجسٹس(ر)وجیہہ الدین احمد کو صدارتی امیدوار نامزد کر کے صدر جنرل پرویز مشرف کو براہ راست سیاسی چیلنج دے دیا ہے۔ جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد کے صدارتی امیدوار کے طور پر نامزدگی کا اعلان ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب ملک میں مخالف سیاسی جماعتیں اور سیاسی اتحاد بظاہر تقسیم ہیں اور کوئی متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ وکلاء کی جانب سے جسٹس وجیہہ الدین کی نامزدگی ایک سوچا سمجھا عمل ہے اور صدر مشرف کےمقابلہ میں ایک ایسے امیدوار کو سامنے لایا گیا ہے جو نہ صرف ایک قانون دان ہیں بلکہ ملک کی اعلٰی ترین عدلیہ کےجج کے منصب پر فائز رہ چکےہیں اور صدر جنرل مشرف کے جاری کردہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے کی پاداش میں ان کو اپنے عہدے سے الگ ہونا پڑا۔ صدر جنرل مشرف کی طرح جسٹس(ر) وجہیہ الدین کا تعلق بھی کراچی سے ہے اور وہ اردوبولتے ہیں۔ مبصرین کی رائے ہے کہ جسٹس وجیہہ الدین کو صدارتی امیدوار بنانے کا اعلان کر کے وکلاء نے اپنی الگ شاخت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر حزب اختلاف کی جگہ لیتے ہوئے بھرپور حزب محالف کا کردار ادا کرنے کا پیغام دیا ہے۔ نامور تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ وکلاء نے جسٹس وجہیہ الدین کی نامزدگی کا اعلان کر کے خود کو سیاسی جماعتوں سے الگ کردیا ہے اور اپنی الگ شاخت کو برقرار رکھا ہے۔ ان کے بقول وکلاء نے ایک ایسے قانون دان کو صدارتی امیدوار کے طور پر چنا ہے جن کو وکالت کے شعبے میں عزت اور احترام کے نظر سےدیکھا جاتاہے۔ ڈاکٹر عسکری کا کہنا ہے کہ حزب مخالف کی جماعتوں کو جسٹس وجیہہ کی نامزدگی پر کوئی اعتزاض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس اعلان سے مشرف مخالف تحریک کو تقویت ملے گی اور اس کا فائدہ بہرحال اپوزیشن کو ہوگا ۔یہ اقدام صدر جنرل مشرف پر اخلاقی اور سیاسی دباؤ کا موجب بنے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ جسٹس وجیہہ الدین کی الیکشن کمیشن تک رسائی کو روکنا اور ان کے موقف کو رد کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا اور بین الاقوامی طور بھی یہ امر توجہ باعث بنے گا۔ ممتازدانشور ڈاکٹر مہدی حسن کا موقف ہے کہ وکلاء کے صدارتی امیدوار کے اعلان سے جنرل مشرف کو کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا تاہم یہ بات ضرور ہوگی کہ صدر مشرف بلا مقابلہ صدر منتخب نہیں ہوسکیں گے۔ ان کی رائے ہے کہ حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے صدارتی انتخاب کا بائیکاٹ کرنے اور استعفیْ دینے کے بعد حکمران جماعت کی طرف وکلاء کے صدارتی امیدوار کو کوئی ووٹ ملنے والا نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ حکمران جماعت کا یہ کہنا درست ہے کہ پہلے وکلاء موجودہ اسمبلیوں سے صدر کے انتخاب کو تسلیم نہیں کرتے تھے لیکن اب وہ اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ معروف صحافی عباس اطہر کا کہنا ہے کہ وکلاءکی جانب سے جسٹس وجیہہ الدین کی صدارتی امیدوار کے طور پر نامزدگی کرنا ایک بہترین حکمت عملی ہے اور کڑے پہروں کے باوجود صدر مشرف کے خلاف وکلاء کے امیدوار کے ناصرف کاغذات جمع ہونگے بلکہ صدر مشرف کی اہلیت پر موثر انداز میں بات ہوسکے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ابھی کوئی ٹھوس بات نہیں کی جاسکتی ہے کہ صدارتی انتخاب کے بعد وکلاء ایک موثر تحریک چلاسکیں گے یا نہیں۔ مبصرین کی رائے ہے کہ وکلاء نے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کا اعلان کرکے حزب مخالف کی جماعت کا روپ تو اختیار کرلیا ہے تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ وکلاء کس حد تک حزب اختلاف کا کردار ادا کرسکیں گے کیونکہ حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے وکلاء اپنی جماعت کی پالیسوں کو کس حد تک نظرانداز کرتے ہیں اور حکمران جماعت کے وکلاء کی مخالفت کیا رنگ لاتی ہے۔ جسٹس وجہیہ نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھا کر نہ صرف آئین کی پاسداری کی بلکہ جنرل مشرف پراخلاقی طور پر سبقت حاصل کی تھی حالانکہ وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھاکر چیف جسٹس پاکستان کے منصب پر فائز ہوسکتے تھے۔ جسٹس وجیہہ الدین اپنے مدمقابل جنرل مشرف کو انتخابی معرکہ میں مات دے سکیں گے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے تاہم یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایک سابق جج ایک حاضر سروس جرنیل کو بلا مقابلہ صدر مملکت بننے نہیں دے گا۔ | اسی بارے میں ’جسٹس (ر) وجیہہ بااصول انسان ہیں‘24 September, 2007 | پاکستان جسٹس(ر) وجیہہ صدارت کےامیدوار24 September, 2007 | پاکستان الیکشن کمیشن کے گھیراؤ کا اعلان20 September, 2007 | پاکستان لاہور: ایم کیوایم کے خلاف احتجاج13 September, 2007 | پاکستان صدر اخبارات پر چھائے رہے21 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||