BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 September, 2007, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جسٹس (ر) وجیہہ بااصول انسان ہیں‘

جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد
جسٹس (ر) وجیہہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں
سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرارالحسن ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کو سپریم کورٹ بار اور ملک کی تمام بار ایسوسی ایشن نے متفقہ طور پر پاکستان کے صدارتی عہدے کے انتخاب کے لیے امیدوار نامزد کیا ہے۔

انہوں نے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک با اصول شخص ہیں اور ایک اعلٰی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے اصولوں کی بنیاد پر سن دو ہزار میں پی سی او یعنی عبوری آئینی حکم کے تحت سپریم کورٹ کے جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھانے سے انکار کردیا تھا جس پر انہیں ریٹائر ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ حلف اٹھا لیتے تو وہ کافی عرصے تک سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہتے۔

ابرارالحسن نے بتایا کہ وجیہ الدین احمد دہلی میں پیدا ہوئے اور اپنے والد کے ساتھ پاکستان آئے۔ ان کے والد وحید الدین احمد مختصر عرصہ کے لئے ویسٹ پاکستان سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں جسٹس کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔

وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے اس وقت کے چئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں اس وقت کی بنچ کے ممبر تھے لیکن ناسازیِ طبیعت کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت میں حصہ نہیں لے سکے اور بعد میں انتقال کرگئے۔ ابرارالحسن نے کہا کہ اگر جسٹس وحیدالدین بنچ کے ممبر رہتے تو ججز کی اکثریت کا فیصلہ بالکل مختلف ہوتا۔

ابرارالحسن نے بتایا کہ وجیہہ الدین احمد نے انیس سو ساٹھ میں ایس ایم لاء کالج میں ایل ایل بی میں داخلہ لیا اور قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پریکٹس شروع کردی۔ وہ سن انیس سو چھہتر میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری جبکہ دو مرتبہ انیس سو ستتر اور اٹھہتر میں نائب صدر منتخب ہوئے۔ وہ سن انیس سو چوراسی میں وفاقی حکومت کے اسٹینڈنگ کونسل مقرر کئے گئے اور سن انیس سو چھیاسی میں انہیں صوبہ سندھ کا ایڈووکیٹ جنرل بنایا گیا۔

کچھ ہی عرصے کے بعد یعنی سن انیس سو اٹھاسی میں انہیں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے فرائض سونپ دیے گئے۔

وہ سن انیس سو ستانوے میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہوئے اور انیس سو اٹھانوے میں انہیں سپریم کورٹ کے جسٹس کے فرائض سونپ دیے گئے جہاں وہ جنوری سن دو ہزار تک فرائض انجام دیتے رہے اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے پر انہیں ریٹائر کردیا گیا۔

اسی بارے میں
سپریم کورٹ کے لیے پانچ نئے جج
14 September, 2005 | پاکستان
چیف جسٹس بننے سے معذرت
22 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد