BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 September, 2007, 18:19 GMT 23:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ ہائی کورٹ کے راستے بندرہیں گے

کنٹینر
سندھ ہائی کورٹ کے اطراف سڑکوں پر رکھے کنٹینر جنہیں راستے بند کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا
پولیس نے بارہ مئی کے واقعات کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں عدالت کے رجسٹرار کے ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر پیر کو عدالت کو جانے والے راستوں کو کنٹینرز سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اتوار کو ایک درجن سے زائد کنٹینرز اس سلسلے میں ہائی کورٹ کے اطراف فٹ پاتھ پر رکھے گئے ہیں جو پولیس کے مطابق اتوار کو رات گئے عدالت جانے والے راستوں پر رکھ دیے جائیں گے اور ان راستوں پر عام گاڑیوں اور لوگوں کا داخلہ بند کردیا جائے گا۔
جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں قائم ہائی کورٹ کی سات رکنی بینچ پیر کو ان درخواستوں کی آئندہ سماعت کر رہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ ہائی کورٹ میں کسی کیس کی سماعت کے موقع پر حفاظتی غرض سے عدالت کا عملاًً محاصرہ کیا جائے گا۔

کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کا کہنا ہے کہ ’ہم راستے بند نہیں کر رہے صرف لوگوں کے داخلے کو محدود کر رہے ہیں کیونکہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا یہ حکم ہے کہ (بارہ مئی کے واقعات کے متعلق درخواستوں کی سماعت کے موقع پر) صرف وہی لوگ ہائی کورٹ جائیں گے جن کے پاس اجازت نامے ہوں گے یا جو بار کے رکن ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ پیر کو عدالت کی حفاظت کے سلسلے میں پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں جب کہ داخلے کے مقامات پر سپیشل برانچ کے اہلکار بھی ہوں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاس کون چیک کرے گا تو ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا عملہ اور پولیس اہلکار دونوں ہی پاس چیک کر کے لوگوں کو داخلے کی اجازت دیں گے۔

یاد رہے کہ بارہ مئی کے متعلق ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی گزشتہ سماعت کے موقع پر دس ستمبر کو ہائی کورٹ کے اندر اور باہر حکمران اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینکڑوں حامی ارکان اسمبلی سمیت جمع ہوگئے تھے جس کے باعث عدالت نے مقدمے کی سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کردی تھی اور اپنے حکم میں کہا تھا کہ عدالت دباؤ کے حالات میں سماعت نہیں کرسکتی۔

صرف اجازت نامے والے یا بار کے رکن
News image
 چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا یہ حکم ہے کہ (بارہ مئی کے واقعات کے متعلق درخواستوں کی سماعت کے موقع پر) صرف وہی لوگ ہائی کورٹ جائیں گے جن کے پاس اجازت نامے ہوں گے یا جو بار کے رکن ہیں
اظہر فاروقی

اسی روز ہائی کورٹ سے کچھ فاصلے پر گورنر ہاؤس کے قریب کراچی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر اور سینئر وکیل راجہ ریاض کو نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت گولیاں مارکر قتل کردیا تھا جب وہ عدالت جارہے تھے۔

ان واقعات کے بعد عدالت نے حکومت سندھ کو ان درخواستوں کی آئندہ سماعت پر عدالت کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سات رکنی بینچ کے سامنے ان درخواستوں کی گزشتہ شنوائیوں کے دوران اس معاملے پر خاصی لے دے ہوئی تھی کہ بارہ مئی کو کس کے حکم پر اور کیونکر شہر کی سڑکوں کو جابجا کنٹینرز اور بڑی گاڑیاں کھڑی کر کے بند کیا گیا تھا۔

عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکام سے دریافت کیا تھا کہ بارہ مئی کو شہر میں کنٹینرز کس کے حکم پر رکھے گئے تھے تاہم شپنگ اور پورٹس کے وفاقی وزیر بابر غوری اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چئرمین سمیت دیگر متعلقہ حکام نے اپنے جوابات میں اس بارے میں لاتعلقی اور لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں
بارہ مئی: وفاق کے حلف نامے
20 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد