سندھ ہائی کورٹ کے راستے بندرہیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس نے بارہ مئی کے واقعات کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں عدالت کے رجسٹرار کے ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر پیر کو عدالت کو جانے والے راستوں کو کنٹینرز سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتوار کو ایک درجن سے زائد کنٹینرز اس سلسلے میں ہائی کورٹ کے اطراف فٹ پاتھ پر رکھے گئے ہیں جو پولیس کے مطابق اتوار کو رات گئے عدالت جانے والے راستوں پر رکھ دیے جائیں گے اور ان راستوں پر عام گاڑیوں اور لوگوں کا داخلہ بند کردیا جائے گا۔ کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کا کہنا ہے کہ ’ہم راستے بند نہیں کر رہے صرف لوگوں کے داخلے کو محدود کر رہے ہیں کیونکہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا یہ حکم ہے کہ (بارہ مئی کے واقعات کے متعلق درخواستوں کی سماعت کے موقع پر) صرف وہی لوگ ہائی کورٹ جائیں گے جن کے پاس اجازت نامے ہوں گے یا جو بار کے رکن ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ پیر کو عدالت کی حفاظت کے سلسلے میں پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں جب کہ داخلے کے مقامات پر سپیشل برانچ کے اہلکار بھی ہوں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاس کون چیک کرے گا تو ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا عملہ اور پولیس اہلکار دونوں ہی پاس چیک کر کے لوگوں کو داخلے کی اجازت دیں گے۔ یاد رہے کہ بارہ مئی کے متعلق ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی گزشتہ سماعت کے موقع پر دس ستمبر کو ہائی کورٹ کے اندر اور باہر حکمران اتحاد میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سینکڑوں حامی ارکان اسمبلی سمیت جمع ہوگئے تھے جس کے باعث عدالت نے مقدمے کی سماعت کرنے سے معذوری ظاہر کردی تھی اور اپنے حکم میں کہا تھا کہ عدالت دباؤ کے حالات میں سماعت نہیں کرسکتی۔
اسی روز ہائی کورٹ سے کچھ فاصلے پر گورنر ہاؤس کے قریب کراچی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق نائب صدر اور سینئر وکیل راجہ ریاض کو نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت گولیاں مارکر قتل کردیا تھا جب وہ عدالت جارہے تھے۔ ان واقعات کے بعد عدالت نے حکومت سندھ کو ان درخواستوں کی آئندہ سماعت پر عدالت کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکام سے دریافت کیا تھا کہ بارہ مئی کو شہر میں کنٹینرز کس کے حکم پر رکھے گئے تھے تاہم شپنگ اور پورٹس کے وفاقی وزیر بابر غوری اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چئرمین سمیت دیگر متعلقہ حکام نے اپنے جوابات میں اس بارے میں لاتعلقی اور لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ | اسی بارے میں بارہ مئی: وفاق کے حلف نامے 20 September, 2007 | پاکستان بارہ مئی: ایم کیو ایم کے حلف نامے12 September, 2007 | پاکستان مختلف شہروں میں وکلاء کا احتجاج11 September, 2007 | پاکستان بارہ مئی: ’سندھ ہائی کورٹ کا گھیراؤ‘10 September, 2007 | پاکستان ’بارہ مئی، حلف نامے داخل کرائیں‘06 September, 2007 | پاکستان بارہ مئی:’سندھ حکومت اور ایم کیوایم ذمہ دار‘27 August, 2007 | پاکستان بارہ مئی واقعہ کے پٹیشنر کی گرفتاری12 June, 2007 | پاکستان بارہ مئی پر بات نہیں: صبیح الدین 30 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||