بارہ مئی: وفاق کے حلف نامے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی حکومت کی جانب سے بارہ مئی کے واقعے کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں حلف نامے دائر کیے گئے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد کے سلسلے میں وفاق کی جانب سے کسی قسم کے انتظامات نہیں کیےگئے تھے اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ وفاقی محکمہ داخلہ کے سیکریٹری سید کمال شاہ نے سندھ ہائی کورٹ میں دائر کیے گئے اپنے مختصر حلف نامے میں کہا ہے کہ بارہ مئی کے حوالے سے کسی بھی اجلاس میں انہوں نے شرکت نہیں کی ۔ سیبلشمنٹ ڈویزن کی جانب سے دائر کیے گئے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ وہ بارہ مئی کو اسلام آباد میں صدر پرویز مشرف کی حمایت میں نکلنے والی ریلی سے باخبر تھے اور ان کے علم میں یہ بھی تھا کہ ایسی ہی ایک ریلی کراچی میں بھی نکالی جائےگی۔ سیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک اہلکار کی جانب سے دائر کئے گئے اس حلف نامے میں بتایا گیا ہے کہ بارہ مئی کے حوالے سے کابینہ کا کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا گیا تھا۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے 1567 حامیوں کی جانب سے حلف نامے دائر کیے گئے ہیں جن میں ان کا کہنا ہے کہ وہ مختلف راستوں سے ریلی میں شریک ہونے کے لیے آرہے تھے کہ راستے میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے فائرنگ کی جس میں ان کے کچھ ساتھی ہلاک اور کچھ زخمی ہوگئے وہ ان واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے اسٹنٹ رجسٹرار رٹ برانچ نے ان حلف ناموں پر اعتراض کرتے ہوئے نوٹس جاری کرکے وضاحت طلب کی ہے۔ نوٹس میں معلوم کیا گیا ہے کہ کس حیثیت میں وہ یہ حلف نامے دائر کر رہے ہیں؟ ، کیا انہیں نوٹس جاری کیے گئے تھے؟ ، یا اس کی تشہیر کی گئی تھی کہ عوام اس حوالے سے حلف نامے دائر کریں؟، اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ اس مقدمے میں فریق بننا چاہتے ہیں تو مناسب طریقہ اختیار کیا جائے۔ متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے وکیل نواب مرزا نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے دفتر نے یہ اعتراض کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کس حیثیت میں یہ حلف نامے دائر کیے گئے مگر یہ تو ان حلف ناموں میں تحریر ہے کہ وہ چشم دید گواہ اور متاثرین ہیں ، عدالتی تحقیقات ہو رہی ہیں وہ بیان دینے کو تیار ہیں اور عدالت کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہ فریق ہیں نہ ہی بارہ مئی کے واقعے کے حوالے سے مقدمے میں فریق بننا چاہتے ہیں ’ہماری تو یہ ہی درخواست ہے کہ ہم عینی شاہدین ہیں کہ بارہ مئی کو کیا ہوا۔ اب یہ عدالت کی مرضی پر ہے کہ انہیں کارروائی کا حصہ بنائے یا نہ بنائے۔‘ واضح رہے کہ جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ رجسٹرار کے ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی سماعت کررہی ہے، جس کی سماعت چوبیس ستمبر کو ہوگی۔ آئندہ سماعت کے موقع عدالت میں سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے خصوصی پاس جاری کیے جائیں گے۔ | اسی بارے میں بارہ مئی: ’سندھ ہائی کورٹ کا گھیراؤ‘10 September, 2007 | پاکستان کراچی میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاج14 September, 2007 | پاکستان ایک اور وکیل پر حملہ، احتجاج14 September, 2007 | پاکستان ایڈوکیٹ قتل کیس، احتجاج مؤخر15 September, 2007 | پاکستان کراچی میں زخمی وکیل چل بسا 16 September, 2007 | پاکستان وکلا کا قتل: عدالتوں کا بائیکاٹ 17 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||