BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 September, 2007, 17:56 GMT 22:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں ہلاکتوں کے خلاف احتجاج

کراچی احتجاج
مظاہرین نے حکومت، فوج اور ایم کیو ایم کے خلاف نعرے لگائے اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
کراچی میں یونیورسٹی روڈ پر مسافر بس پر دستی بم اور فائرنگ سے ہوئے حملے میں ہلاکت کے خلاف جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ نے جمعہ کو ایم اے جناح روڈ اور ملیر میں احتجاجی مظاہرے کیے۔

یہ مظاہرے واقعے میں ہلاک ہونے والے جمعیت کے دو کارکنوں عمران شاہد اور عاطف بٹ کی نماز جنازہ کے موقع پر ہوئے۔اس سے قبل اسی حملے میں ہلاک ہونے والے جمعیت کے ایک اور کارکن غلام صدیق کی نماز جنازہ گزشتہ شب ادا کی گئی جس کے بعد ان کی میت آبائی علاقے گلگت روانہ کردی گئی تھی۔

صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال سے تعلق رکھنے والے عمران کی نماز جنازہ مزار قائد کے قریب ایم اے جناح روڈ پر ادا کی گئی جو صوبہ سرحد کے سابق سینئر صوبائی وزیر اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سراج الحق نے ادا کی، جبکہ کراچی سے تعلق رکھنے ولے عاطف بٹ کی نماز جنازہ ملیر کے علاقے میں ادا کی گئی۔ دونوں مقامات پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ اس موقع پر شرکاء نے حکومت، فوج اور ایم کیو ایم کے خلاف نعرے لگائے اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

ہلاک ہونے والوں میں جمعیت کے تین کارکنوں کے علاوہ اسکردو سے تعلق رکھنے والے جامعہ کراچی کے طالب علم حبیب اللہ، سندھ کے ضلع خیرپور سے تعلق رکھنے والے سرفراز حسین کیریو، محکمہ بہبود آبادی کے ڈرائیور محمد رفیق (کراچی) اور ایک مزدور ایلون (کراچی) شامل ہیں۔ حبیب اللہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکن بتائے جاتے ہیں۔

اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلی نصراللہ گورایہ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ حملہ اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف حکمران جماعت ایم کیو ایم کی پرتشدد انتقامی کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کو گلشن اقبال میں واقع جمعیت کے دفتر پر مسلح حملہ کیا گیا اور دو کارکنوں شفیق اور عتیق کو ٹانگوں اور پیٹ میں گولیاں مارکر شدید زخمی کردیا گیا جبکہ دو دیگر کارکنوں سعد لیاقت اور فرحان کو اغواء کرکے ایک فلیٹ میں لے جاکر چارگھنٹوں تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ایم کیو ایم کی تردید
 یہ ایک دہشتگردی کی کارروائی ہے جس میں مسافر بس میں لوگوں کو بلاامتیاز دستی بم اور گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور اس کا مقصد شہر کے امن کو نقصان پہنچانا ہے۔
فیصل سبز واری

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بارہ مئی سے تسلسل کے ساتھ تشدد کے واقعات ہورہے ہیں اور گزشتہ دنوں جس طرح سندھ ہائی کورٹ کا گھیراؤ کیا گیا اور وکلاء پر حملے کیے جارہے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے کراچی شہر کے ساتھ خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے لیکن حکمران اس پر خاموش ہیں جس سے ان کے عزائم بھی آشکار ہوگئے ہیں۔

انہوں نے حکومت کو ایک ہفتے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ہفتے کے اندر اس حملے میں ملوث افراد کو گرفتار نہ کیا گیا تو جمعیت کے کارکنان اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کریں گے اور اس کے بعد ایوان صدر کا گھیراؤ کیا جائے گا ۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومینٹ نے جمعیت کے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دہشتگردی کی کارروائی ہے جس میں مسافر بس میں سوار لوگوں کو بلاامتیاز دستی بم اور گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور اس کا مقصد شہر کے امن کو نقصان پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ایم کیو ایم کے کارکن محمد رفیق ہلاک ہوئے ہیں اورگلشن اقبال یونٹ کے ذمہ دار حماد کے بھائی اسامہ بھی شدید زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں شہر میں جمعیت کے کارکنوں کے پنجابی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پی ایس اے) اور پنجابی پختون اتحاد (پی پی آئی) کے کارکنوں سے مسلح تصادم ہوئے ہیں جن میں جمعیت کے دو اور پی ایس اے کا ایک کارکن ہلاک ہوا۔ ’ان واقعات میں جس طرح سے جدید اسلحے کا استعمال ہوا ہے وہ میڈیا میں رپورٹ ہوا ہے پھر ان واقعات کے کچھ دنوں کے بعد پی پی آئی کے لوگوں پر فلک ناز پلازہ کے قریب دستی بم پھینکا گیا اور اس سے مختلف لوگ زخمی ہوئے۔ تو یہ سب چیزیں تو کسی اور ہی جانب اشارہ کرتی ہیں‘۔

جمعیت کا الٹی میٹم
 اگر ایک ہفتے کے اندر اس حملے میں ملوث افراد کو گرفتار نہ کیا گیا تو جمعیت کے کارکنان اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کریں گے اور اس کے بعد ایوان صدر کا گھیراؤ کیا جائے گا۔
نصراللہ گورایہ

انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنگین معاملہ ہے جسے حکومت یقیناً سنجیدگی سے لے گی اور جس طرح نشتر پارک بم دھماکے کے اصل مجرموں کو حکومت نے کامیابی سے بے نقاب کیا اسی طرح جلد ہی اس کارروائی میں ملوث لوگوں کا بھی پتہ چلالیا جائے گا۔

ادھر پولیس نے واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا ہے اور حملے کا نشانہ بننے والی بس کے ڈرائیور علی جان اور کلینر کو تفتیش کے لئے حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ڈی آئی جی آپریشن ایسٹ میر زبیر کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ واقعے کے بعد جامعہ کراچی بند ہے اور جمعہ اور سنیچر کے دن ہونے والے امتحانات کے پرچے ملتوی کردیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
کراچی:بس پر فائرنگ، 7 ہلاک
13 September, 2007 | پاکستان
کراچی: تصادم میں ایک ہلاک
15 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد