BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 August, 2007, 19:33 GMT 00:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جناح ہسپتال میں حالات معمول پر

جناح ہسپتال
جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں آنے والوں کی تلاشی لی جا رہی ہے
کراچی کے سب سے بڑے سرکاری ہپستال جناح پوسٹ گریجویٹ ہسپتال میں دو طلبہ تنظیموں میں تصادم میں مزید ایک طالب علم کی ہلاکت کے تیسرے دن حالات معمول کی طرف لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔

ہسپتال کا ’او پی ڈی‘ کھول دیا گیا ہے تاہم کسی بھی ممکنہ گڑبڑ سے نمٹنے کے لیے وہاں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ پیر کو ہسپتال کی تمام او پی ڈیز میں بیرونی مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی تاہم ہسپتال آنے والے افراد کی تعداد معمول سے کم رہی۔

رنچھوڑ لائن سے آنے والی حاجرہ خاتوں کا کہنا تھا کہ وہ ہفتے کو بھی ہسپتال آئیں تھیں مگر ہنگامے کی وجہ سے او پی ڈی بند ہوگئی تھی اور اُنہیں واپس جانا پڑا۔انہوں نے کہا کہ آج ہسپتال کسی میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں کھڑکیوں اور دروازوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے، پتھر اور پولیس و رینجرز کی گاڑیاں دو روز پہلے ہونے والی ہنگامہ آرائی کی گواہی دے رہی ہیں۔

سنیچر کو طلبہ تنظیموں میں تضادم کے دوراں اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک کارکن فرحان کی موت کے بعد مشتعل افراد نے جہاں اسپتال کے دیگر حصوں کو نقصان پہنچایا تھا وہیں شعبۂ حادثات اور اس کے عملے کو بھی لوگوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑا۔

شعبۂ حادثات کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی کے دوراں ایمرجنسی وارڈ کی ای سی جی مشینیں، بلڈ پریشر دیکھنے کے آلات، آکسیجن فراہم کرنے کی مشینیں اور دیگر آلات توڑ دیے۔

ہسپتال میں اب بھی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات ہے

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ ہنگامہ آرائی میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہی ہے جبکہ قابلِ مرمت آلات کو استعمال کے قابل بنانے اور نئے آلات کی فراہمی کے لیے اعلٰی افسران سے سفارش کی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شعبۂ حادثات کا عملہ اب بھی خوفزدہ ہے جس کی بناء پر وارڈ میں آنے والوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے۔

ہسپتال کی سکیورٹی کے عملے نے ایمرجنسی وارڈ میں آنے والوں کی جامہ تلاشی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے جبکہ مریضوں کے ہمراہ صرف ایک تیماردار کو آنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

ہسپتال میں تعینات ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ جناح ہسپتال کی اندرونی اور بیرونی دیواریں سیاسی نعروں سے رنگین ہیں جو ان طلبہ تنظیموں کے درمیاں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب ہوسکتی ہیں۔ ادھر اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن فرحان بٹ کی ہلاکت کے بعد پولیس نے پنجابی سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے مقدمے میں نامزد ایک کارکن کوگرفتار کر لیا ہے۔

اسی بارے میں
کراچی: تصادم میں ایک ہلاک
15 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد