BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 April, 2007, 17:10 GMT 22:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: جمعیت طلبہ کے خلاف مظاہرہ

پنجاب یونیورسٹی
طالبات نے کہا کہ وہ خوف کی وجہ سے شکایت نہیں کرتیں
پنجاب یونیورسٹی لاہور کی انتظامیہ نے شعبہ فارمیسی کے زیر اہتمام موسیقی کی ایک تقریب پرحملہ کرنے اور توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا ہے لیکن پولیس کے مطابق اس کی ایف آئی آر مہر بند کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب شعبہ فارمیسی کی طالبات نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ جمعات اسلامی سے وابستہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں سے شدید خوف زدہ ہیں۔

سنیچر کی شب اسلامی جعیت طلبہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے شعبہ فارمیسی کے زیر اہتمام ہو رہی موسیقی کی ایک تقریب پر حملہ کردیا تھا اور توڑ پھوڑ کرکے محفل کو درہم برہم کر دیا تھا۔ تاہم پولیس کی مداخلت پر موسیقی کی تقریب منعقد جاری رہی۔

پولیس کے مطابق اتوار کو پرانی انارکلی پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا۔

منگل کو ایک اخباری کانفرنس میں پنجاب یونیوسٹی شعبہ فارمیسی کے قائم مقام پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد نے الزام لگایا کہ گزشتہ سنیچر کو ساٹھ سے زیادہ طلباء نے اساتذہ اور طالبات کے ساتھ نامناسب زبان استعمال کی، ایک لیکچرار ذیشان دانش اور عملے کے چند دوسرے ارکان کو مارا اور تقریب میں شریک طلباء و طالبات پر بوتلیں اور پتھر مارکر انہیں زخمی کیا۔

خواتین ونگ کی رکن طالبات دوسری طالبات کو ڈراتی دھمکاتی بھی ہیں:ڈاکٹر بشیر احمد

تقریب میں دو ہزار سے زیادہ طالب علم شریک تھے۔

پرنسپل کے مطابق ان حملہ آوروں نے توڑ پھوڑ کرکے ساڑھے تین لاکھ روپے سے زیادہ کی کراکری کا نقصان کیا اور ٹی وی سیٹ، ملٹی میڈیا، کمپیوٹر اور ساؤنڈ سسٹم وغیرہ بھی توڑ دیے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ محفل موسیقی میں گلوکار ابرار الحق کو بطور مہمان بلایا گیا تھا اور انہیں ایک حمد بھی پڑھنا تھی۔

قائم مقام پرنسپل نے کہا کہ ہم پرامن ماحول میں بہتر انداز میں تعلیم دینا چاہتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد کی پریس کانفرنس میں موجود فارمیسی کی طالبات نے بتایا کہ یونیورسٹی میں پڑھنے والی لڑکیوں کو ہوسٹلز میں اپنی سالگرہ کی تقریبات منانے اور موسیقی سننے میں جمعیت کی مداخلت کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ جمعیت کے خواتین ونگ کی رکن طالبات انہیں ایسا کرنے سی نہ صرف روکتی ہیں بلکہ ان کو ڈراتی دھمکاتی بھی ہیں۔

طالبات نے کہا کہ وہ اسی خوف کی وجہ سےانتظامیہ کو شکایت نہیں کرتیں کہ بعد میں انہیں ہراساں کیا جائے گا۔

بعد میں فارمیسی کی طالبات نے جمعیت کے رویے کے خلاف سڑک پر ایک مظاہرہ بھی کیا جس میں انہوں نے پوسٹرز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
موسیقی کی کلاسز، احتجاج
11 October, 2006 | پاکستان
پولیس اور طلباء میں جھڑپ
25 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد