BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 16:24 GMT 21:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب یونیورسٹی، تحقیقات کا حکم

پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس پر ایسے تنازعات پہلے بھی دیکھے گئے ہیں
پاکستان کی پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایک طالب علم پر تشدد کے الزام میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں کے خلاف تحقیقات شروع کردی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کےانگلش ڈپارٹمنٹ کے طالب علم کاکہنا ہے کہ اسے محض اس وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ اپنی ساتھی طالبہ سے گفتگو کررہا تھا۔

یونیورسٹی کے بعض طلبہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے پوری یونیورسٹی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہیں لڑکیوں کے لباس اور ان کا لڑکوں کے ساتھ بیٹھنے پر اعتراض رہتا ہے اور جو ان کی بات نہ ماننے اسے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شعبۂ ابلاغیات کے ایک طالب علم نے بتایا کہ دو روز پہلے ایک الگ واقعے میں ہیلی کالج آف کامرس کے ایک لڑکے اور لڑکی کی سرعام پٹائی کی گئی تھی۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے لڑکیوں پر تشدد یا بدسلوکی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے کارکنوں کو لڑکیوں سے بات کرنے یا انہیں روکنے ٹوکنے کی پابندی ہے اور جو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے اسے تنظیم سے نکال دیا جاتا ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے ناظم محمد ایوب نے کہاکہ ان کا موقف صرف یہ ہے کہ یونیورسٹی لباس کے معاملے میں اپنے قواعد کی پابندی کروائے۔

اسلامی جمعیت طلبہ کا موقف
 اسلامی جمعیت طلبہ نے لڑکیوں پر تشدد یا بدسلوکی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے کارکنوں کو لڑکیوں سے بات کرنے یا انہیں روکنے ٹوکنے کی پابندی ہے اور جو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے اسے تنظیم سے نکال دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی قواعد کے تحت لڑکیاں آدھی آستین کی قمیض نہیں پہن سکتیں لیکن اس قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہورہی ہے اور انتظامیہ کو کوئی پراوہ نہیں ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں پچیس ہزار نوجوان لڑکے لڑکیاں زیرتعلیم ہیں اور ایک بڑی تعداد اسلامی جمعیت طلبہ کے زور زبردستی کے رویے کی شکایت کرتی ہے جمعیت سے شکوہ کرنے والوں میں اساتذہ بھی شامل ہیں۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نعیم خان نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں طلبہ کے لیے لباس کے اخلاقیات مقرر ضرور ہیں لیکن ان حدود میں رہتے ہوئے طلبہ کو لباس کے معاملے میں انفرادی طور پر آزادی حاصل ہے اور کسی کو ان کی آزادی سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ دہرے معیار کا مظاہرہ کرتی ہے، اسی پنجاب یونیورسٹی کے گوجرانوالہ کیپمپس میں آدھی آستین کی قمیض پہننے والی لڑکی کو ڈیڑھ ہزار روپے اور لڑکے لڑکی کے اکٹھے بیٹھنے پر انہیں دو ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے لیکن باقی یونیورسٹی میں کھلی چھوٹ ہے۔

جمعیت کے ناظم نےکہا کہ کل جس طالب علم کو تشدد کانشانہ بنایا گیا وہ مبینہ طور پر ایک لڑکی سے بوس وکنار کر رہا تھا جس کا ثبوت ایک موبائل فون کی ویڈیو کی صورت میں ان کے پاس محفوظ ہے۔ انہو ں نے کہا کہ اس قسم کے واقعات ہوں گے تو صرف جمعیت کے کارکن ہی نہیں عام طلبہ بھی اشتعال میں آسکتے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر محمد نعیم خان کا کہنا ہے کسی کو طلبہ پر تشدد کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔انہوں نے کہا کہ تشدد کے حالیہ واقعہ پرتحقیقاتی کمیٹی دو روز میں انہیں رپورٹ پیش کردے گی۔

پنجاب یونیورسٹی پر گذشتہ کئی عشروں سے جماعت اسلامی کی ذیلی طلبہ تنظیم، اسلامی جمعیت طلبہ کا غلبہ رہا ہے اور یونیورسٹی میں ہونے والے زیادہ تر پرتشدد واقعات میں کسی نہ کسی طور اس طلبہ تنظیم کو ملوث قرار دیا جاتا رہا ہے۔

یونیورسٹی کی انتظامیہ کاکہنا ہے کہ اب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کا پہلے جیسا زور نہیں رہا اور انہیں من مانی نہیں کرنے دی جاتی۔

یونیورسٹی رجسٹرار نے کہا کہ جمعیت کو گزشتہ برس بک فیئر نہیں لگانے دی گئی اور اسی طرح جمعیت کی مخالفت کے باوجود یونیورسٹی میں شعبۂ موسیقی نہ صرف قائم ہوا بلکہ ان معاملات کی پرتشدد مخالفت کرنے والے پینتیس طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

لال مسجدنفاذِ شریعت
لال مسجد میں نماز جمعہ کے خطبے کا متن
پشاور یونیورسٹی درس قرآن پر پابندی
پشار یونیورسٹی میں پابندی کے خلاف احتجاج
لال مسجدتصویروں میں
لال مسجد سے اسلام شریعت کا اعلان
پاکستان پر بھی طالبان کے سایےامن کے لیے خطرہ
پاکستان پر بھی طالبان کی بڑھتی طاقت کے سائے
گولڈن ٹمپل اسلام آباد
لال مسجد گولڈن ٹمپل کی راہ پر: وسعت اللہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد