BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 August, 2007, 21:51 GMT 02:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی تشدد کے واقعات تین ہلاک

لیاری میں جاری ’گینگ وار‘ سے مقامی آبادی شدید پریشان ہے
کراچی میں بدھ کو جناح ہسپتال میں دوطلبہ تنظیموں کے درمیان ہونے والے تصادم میں ایک طالبعلم اور لیاری میں مبینہ پولیس مقابلہ کے دوران دو مشتبہ ڈاکو ہلاک ہوگئے۔

ایس پی او صدر ٹاؤن طاہر نوید کا کہنا ہے کہ تصادم اسلامی جمعیت طلبہ (آئی جے ٹی) اور پنجابی اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کے درمیان ہوا جس میں آئی جے ٹی کے جناح ہسپتال کے ناظم عبدالرحمان ڈنڈوں کی ضربیں لگنے سے ہلاک ہوئے۔

طاہر نوید کا کہنا ہے کہ دونوں تنظیموں کا تصادم جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر ایک پبلک کال آفس سے شروع ہوا اور جب پولیس پہنچی تو حالات قابو سے باہر ہوچکے تھے اور مشتعل افراد نے پولیس پر پتھراؤ شروع کردیا جس سے دو موبائلوں اور ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کو نقصان پہنچا جبکہ پولیس کا ایک اہلکار زخمی ہوا جس کے باعث پولیس واپس آنے پر مجبور ہوئی۔

جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ عبدالرحمان کی موت سینے پر ضرب آنے کے باعث ہوئی ہے۔

واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے جناح اہسپتال کے باہر پتھراؤ کیا اور رکاوٹیں کھڑی کر دیں جس کے نتیجے میں شاہراہِ فیصل اور اُس کے اطراف میں شدید ٹریفک جام ہوگیا۔

ہلاک ہونے والا آئی جے ٹی کا ناظم عبدالرحمان جناح اسپتال کے فزیوتھراپی کا طالبعلم تھا جس کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر ملتان سے تھا۔

ممکنہ طلبہ تصادم کے پیشِ نظر اعلی پولیس افسران کی جانب سے شہر بھر کے کالجوں اور طلبہ ہاسٹلز کے اطراف پولیس اور ریجنرز کی نفری تعینات کرنے اور سیکورٹی کے سخت انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ادھرلیاری کے علاقےگل محمد لین میں مبینہ پولیس کے مقابلہ میں دو مشتبہ ڈاکو ہو گئے ہیں۔

گزشتہ کئی برسوں سے جاری گینگ وار کی لپیٹ میں ہے جہاں پولیس کے مطابق 2002 سے اب تک چار سو سے زیادہ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔

ڈی آئی جی ساؤتھ زون جاوید علی بخاری نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ بدنامِ زمانہ ارشد پپو اور رحمان ڈکیت سے تعلق رکھنے والے دو مخالف گروہوں میں تصادم شروع ہوا جس کے بارے میں علاقے کے لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس موقع پر پہنچی تو رحمان ڈکیت گروپ کے ساتھی بھاگ کھڑے ہوئے جبکہ ارشد پپو گروپ کے ساتھیوں نے پولیس پر حملہ کردیا۔ پولیس نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں مجید عرف اسپیڈ سمیت دو ملزمان ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔

موقع پر موجود ایس پی فیاض خان نے بتایا کہ مجید اسپیڈ گزشتہ بارہ برس سے پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب تھا جن میں قتل، اقدامِ قتل، اغوا، ڈکیتی و رہزنی سمیت کئی وارداتیں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں کے قبضہ سے گرینیڈ اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔

فیاض خان نے بتایا کہ شام کو شروع ہونے والا مقابلہ رات تک جاری رہا اور ابھی پولیس کے اہلکار تنگ و تاریک گلیوں میں جانے سے قاصر ہیں کیونکہ ملزمان کے پاس بھاری اسلحہ موجود ہے اور وہ تاریکی کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان نے پولیس پر دستی بموں سے حملہ کیا جبکہ ایک راکٹ بھی داغا جو پولیس موبائل وین پر جا لگا تاہم پولیس کا جانی نقصان نہیں ہوا البتہ گاڑی کو نقصان پہنچا ہے۔

پولیس کے مطابق ارشد پپو پچھلے سال گرفتار ہوچکا ہے جبکہ رحمان ڈکیت پچھلے سال اگست میں پولیس حراست سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں گروہوں کے سرغنہ اب سرگرم نہیں رہے جس کی بناء پر دونوں کے گروہ مزید چھوٹے گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور ہر گروہ علاقے میں اپنا کنٹرول چاہتا ہے جن کی بیخ کنی کے لئے پولیس مختلف نوعیت کے کئی اقدامات کرہی ہے۔

اسی بارے میں
لیاری: ارشد پپوگرفتار
11 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد