کراچی: دھماکہ کیس میں گرفتاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پی آئی ڈی سی بم دھماکے کے ایک اور ملزم کوگرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کا تعلق کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سے بتایا جا رہا ہے۔ سال دو ہزار پانچ میں پاکستان انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کی عمارت کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں چار افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہوئے تھے۔ اس عمارت میں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کا دفتر بھی واقع ہے۔ پولیس کے اینٹی وائلینٹ کرائم سیل کے ایس ایس پی میر حسین لہڑی کے مطابق ایک اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے گارڈن کے علاقے سے ایک شخص عبدالحمید بگٹی ڈیڑھ کلو چرس اور ایک عدد پستول سمیت گرفتار کیا۔ دوران تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ پی آئی ڈی سی بم دھماکے میں ملوث ہے اور یہ کہ اس واقعہ میں استعمال ہونے والی گاڑی وہی چلا کر لایا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم کا کہنا ہے کہ اسے دھماکے کے لیے نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ نے کہا تھا۔ یاد رہے کہ پی آئی ڈی سی بم دھماکہ کیس میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت دو افراد منگلا خان اور عزیز خان کو پہلے ہی موت کی سزا سنا چکی ہے۔ | اسی بارے میں بگٹی کے پوتے پر دھماکے کا الزام10 December, 2005 | پاکستان کراچی بم دھماکے میں تین ہلاک15 November, 2005 | پاکستان کراچی پولیس کے تحقیقاتی زاویے 15 November, 2005 | پاکستان کراچی، قاتلانہ حملے میں دو ہلاک17 May, 2005 | پاکستان بگٹی کے بیٹے اور پوتے پر بھی مقدمہ 19 January, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||