کراچی پولیس کے تحقیقاتی زاویے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی بم دھماکے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے قبول کیے جانے کے باوجود پولیس نے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ کراچی پولیس کے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن منظور مغل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ فی الحال یہ نہیں بتاسکتے کہ دہشتگردوں کا ہدف پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ تھا یا کے ایف سی مگران کا مقصد عوام میں خوف پھیلانا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید تفتیش جاری ہے۔ منظور مغل کے مطابق بی ایل اے کے بارے میں جب تک کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ دھماکے میں وہ ملوث ہیں۔ پولیس پی آئی ڈی سی کی عمارت میں نصب خفیہ کیمرے کی ریکارڈنگ سے مدد لینا چاہ رہی ہے جبکہ شیرٹن اور پی سی میں نصب کیمروں کی ریکارڈنگ بھی مددگار ثابت ہوگی۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ دھماکہ میں استعمال ہونےوالی گاڑی کے بارے میں بھی تفصیل جمع کی جا رہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ کار سندھ کے شہر خیرپور سے چوری کی گئی تھی تو انہوں کا کہا کہ تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب ڈی پی او خیرپور شبیر شیخ نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی خیرپور سے چوری کی گئی تھی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ مہران کار اس سال اٹھائیس ستمبر کو خیرپور سے چوری کی گئی تھی۔ یہ گاڑی بینک مینجر عبدالرزاق کی بیوی کے نام پر رجسٹرڈ ہے جبکہ چوری کی شکایت عبدالرزاق کے بھائی جبار شیخ نے درج کروائی تھی۔ ڈی پی او خیرپور کا کہنا ہے کہ گاڑی چوری ہونے کے بعد وائرلیس پر پیغام نشر کیا گیا تھا مگر گاڑی کا کوئی پتہ چل نہیں سکا تھا۔ دریں اثنا بم ڈسپوزل اسکواڈ کے افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں استعمال ہونے والا بم تقریباً پانچ کلو وزنی تھا جس کو ٹائمر سے چلایا گیا۔ یہ ہائی ایکسپلوزو تھا جس کے پھٹنے سے حرارت پیدا ہوئی اور گاڑیوں کو آگ لگ گئی۔ | اسی بارے میں کراچی بم دھماکے میں تین ہلاک15 November, 2005 | پاکستان تربت میں دھماکہ، تین افراد ہلاک07 November, 2005 | پاکستان کراچی میں فائرنگ سے دو ہلاک12 September, 2005 | پاکستان دھماکے: نامعلوم افراد پر مقدمہ 09 September, 2005 | پاکستان میکڈونلڈ، کے ایف سی میں دھماکے08 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||