کراچی: پولیس مقابلہ، چار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزم شاہ زیب بلوچ اپنے تین ساتھیوں سمیت پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ پولیس کے مطابق شاہ زیب بلوچ پچاس سے زائد مقدمات میں مطلوب تھے۔ یہ واقعہ سنیچر کو علی الصبح لیاری کے علاقے اولڈ کمیٹی روڈ شاہ بیگ لین میں پیش آیا ہے۔ ٹاؤن پولیس آفیسر لیاری پیر فرید جان سرہندی کا کہنا ہے کہ ملزمان لیاری کے بدنام جرائم پیشہ گروہ ارشد پپو گینگ سے تعلق رکھتے تھے۔ شاہ زیب قتل، اغواء برائے تاوان، ڈکیتی، پولیس مقابلوں اور بھتہ خوری سمیت دیگر سٹریٹ کرائمز کے 50 سے زائد مقدمات میں مطلوب تھے اور حکومت نے ان کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر کی ہوئی تھی- پولیس کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاع پر بغدادی تھانے نے علاقے میں چھاپہ مارا اور ملزمان کو رضاکارانہ طور پر خود کو قانون کے حوالے کرنے کہا لیکن ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی جس کے بعد مقابلہ شروع ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں چاروں ملزمان کو شدید زخمی حالت میں گرفتار کرکے بعد ازاں ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے بھاری اسلحہ برآمد کیا گیا ہے جس میں دو کلاشنکوف اور اتنی ہی تعداد میں ریپیٹر اور دستی بم کے علاوہ بڑی تعداد میں گولیاں شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے دیگر ملزمان کی شناخت فرحان عرف فلج، عمران عرف کمانڈو اور وحید عرف چھوٹو کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق گروہ کا سرغنہ ارشد پپو کچھ عرصے قبل گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ان دنوں جیل میں ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے- واضح رہے کہ لیاری کا علاقہ گزشتہ کئی سالوں سے ارشد پپو اور رحمن ڈکیت کے مابین دشمنی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی بناء پر بدامنی کا شکار رہا ہے۔ پولیس کے مطابق رحمن اور ارشد مختلف جرائم میں شریک تھے بعد میں دونوں میں اس وقت گینگ وار چھڑ گئی جب رحمن نے ارشد کے سالے عنایت کو قتل کردیا۔ اس تنازعے کی وجہ ڈیڑھ سو روپے بتائی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق عنایت رحمٰن کے اڈے پر افیون لینے گیا تھا اور دونوں میں ڈیڑھ سو روپے پر جھگڑا ہوگیاجس پر طیش میں آ کر رحمٰن نے عنایت کو قتل کردیا تھا جس کے بعد دونوں نے اپنے گروہ بنا لیے تھے اور لیاری ان کی جنگ کا میدان بن گیا اس گینگ وار کے بعد ارشد پپو کا نام منظرِ عام پر آیا۔ ررحمٰن ڈکیت نے کراچی کے قریب بلوچستان کے سرحدی علاقے حب میں اپنا ٹھکانہ بنایا تھا جس کو ایک سال قبل رینجرز نے زمین دوز کردیا تھا۔ لیاری میں گینگ وار اور جرائم کے خلاف رینجرز نے بھی آپریشن کیا تھا جس کے بعد جرائم میں کچھ کمی واقع ہوئی تھی۔ | اسی بارے میں کراچی پولیس کے تحقیقاتی زاویے 15 November, 2005 | پاکستان کراچی پولیس کے جرمن کھوجی کتے20 June, 2006 | پاکستان کراچی پولیس کے سیریل کلرز گرفتار18 October, 2006 | پاکستان کراچی پولیس پر رحمان ڈاکو کا خوف 16 June, 2005 | پاکستان ’پولیس کا انتقام‘20 March, 2007 | پاکستان ’پولیس عدالت کو مطمئن کرے‘19 March, 2007 | پاکستان پولیس گاڑی پرحملہ، تین ہلاک17 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||